اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاﺅنڈ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران عدالت نے وکلا کی عدم دستیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر دلائل نہ دیئے گئے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 190 ملین پاﺅنڈ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی اپیلوں پر سماعت کی، سماعت کے دوران وکیل سلمان صفدر کی بیماری اور وکالت ناموں پر دستخط کے مسائل کے باعث تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
سماعت کے آغاز پر پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان اور بشری بی بی کے بعد ان کے مرکزی وکیل سلمان صفدر بھی آنکھ کی شدید بیماری کا شکار ہو گئے ہیں، سلمان صفدر نے آنکھ کے معائنے کے لیے بیرونِ ملک جانے کے باعث اپیلوں کی فوری پیروی سے معذوری ظاہر کی ہے، سزا معطلی کی درخواستیں سننے سے انکار کے خلاف وہ سپریم کورٹ میں بھی اپیل دائر کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے انہیں مزید وقت دیا جائے۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے التوا مانگنے پر سخت ریمارکس دیئے کہ اگر سلمان صفدر دستیاب نہیں ہیں تو عمران خان اور بشری بی بی آئندہ سماعت سے پہلے اپنا نیا وکیل مقرر کریں، اگر اگلی تاریخ پر بھی دلائل شروع نہ ہوئے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، اس لیے سلمان صفدر کی عدم موجودگی کی صورت میں پی ٹی آئی لیگل ٹیم کسی اور وکیل کا ‘پاور آف اٹارنی’ پیش کریں۔
سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ نے جیل حکام کے رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ سے عمران خان کے وکالت ناموں پر دستخط نہیں ہونے دیے جا رہے، انہوں نے عدالت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نئے وکیل کا پاور آف اٹارنی کیسے دے سکتے ہیں؟ عمران خان اور بشری بی بی آپ کی کسٹڈی میں ہیں، جب تک وہ دستخط نہیں کریں گے، نیا وکیل مقرر نہیں ہو سکتا، ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانا بھی ان کا قانونی حق ہے۔
دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم جاری کیا کہ وہ عمران خان اور بشری بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط کرا کے وکلا کو فراہم کریں۔،عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت پر حتمی دلائل کی تیاری کے ساتھ آنے کی ہدایت کردی۔