اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں حالیہ انمول پنکی منشیات کیس اور سوشل میڈیا پر جاری بے بنیاد خبروں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے انمول عرف پنکی کی میڈیا کوریج اور معروف شخصیات پر لگائے جانے والے الزامات توجہ ہٹانے کا حربہ ہے، حکومت ‘شوشہ نیوز’ پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔ ۔
ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش من گھڑت خبروں اور منشیات کیس میں نامور شخصیات کو گھسیٹنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ‘شوشہ نیوز’ پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔
وزیرِ قانون نے سابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی ‘شوشہ نیوز’ پر یقین نہیں رکھتا، پورا ایوان راجہ پرویز اشرف کے ساتھ کھڑا ہے اور حکومت اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھے گی بلکہ ایکشن لے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے منشیات کیس کی ملزمہ انمول عرف پنکی کی جانب سے اہم شخصیات کے نام لیے جانے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ اور اس کے گرد موجود عناصر اصل کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے دانستہ طور پر مشہور شخصیات کے نام لے رہے ہیں، جس کی وجہ ہ ہے کہ پنکی کو غیر ضروری کوریج دی گئی، کیا اس ملک میں کوئی اور مسئلہ باقی نہیں بچا؟۔انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت منشیات فروشی جیسے سنگین جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے، تاہم کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ تفتیش کی آڑ میں معزز شہریوں اور سیاسی قیادت کی پگڑیاں اچھالے، ایسے شوشے چھوڑ کر قانون کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔