اسلام آباد (کامرس رپورٹر)وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس بات پر زور دیاہے کہ عالمی تنازعات کا حل نکالنا پیٹرول کی قیمتوں کو مستقل طور پر قابو میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے، پاکستان میں ایندھن کی فراہمی محفوظ ہے، اس کے برعکس بھارت میں شہریوں کو پیٹرول پمپس پر طویل قطاروں اور قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک انٹرویو میں علی پرویز ملک نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی تنازعات کے باعث معاشی دباؤ کا شکار بھارت جیسے کئی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔ انہوں نے وزیرِاعظم، فیلڈ مارشل اور نائب وزیرِاعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے ان کے فعال اقدامات کی تعریف کی اور توانائی کے تحفظ اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں ان کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ ایک معاہدہ ہے جس کی پاسداری ضروری ہے اور خبردار کیا کہ اس پر عمل درآمد میں ناکامی ملک کی معیشت کیلئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ حکمتِ عملی میں تبدیلیاں جن میں ڈیزل کے استعمال کو کم کر کے اسے پیٹرول کی جانب منتقل کرنا شامل ہے، ایندھن کی دستیابی کو بہتر بنانے اور قیمتوں کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرِ پیٹرولیم نے زور دیا کہ پاکستان اندرونِ ملک تیل یا پیٹرول پیدا نہیں کرتا اور اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا اور قیمتوں کا انتظام کرنا اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مستقل کنٹرول کا تعلق عالمی تنازعات کے حل سے ہے بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی سے جو براہِ راست عالمی تیل کی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسی کشیدگیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دیگر جغرافیائی سیاسی مسائل کا حل بھی ایندھن کی قیمتوں میں طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے اوگرا کے جاری ڈیجیٹلائزیشن کے عمل اور پیٹرولیم کے شعبے میں کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کیلئے مزید ڈی ریگولیشن کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ یہ اصلاحات بہتر طرزِ حکمرانی اور ایندھن کی تقسیم کے نظام کو مؤثر بنانے کیلئے نہایت اہم ہیں۔
٭٭٭٭٭












