خادم حسین

بجٹ میں سود کی ادائیگی کیلئے 8ہزار ارب مختص ہونا تشویش کا باعث ہے’ خادم حسین

لاہور( کامرس ڈیسک)فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے اندرونی اور بیرونی قرضے اتارنے کے لئے قومی پالیسی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صرف سود کی ادائیگی کیلئے تقریباً8ہزار ارب روپے مختص ہونا انتہائی تشویش کا باعث ہے ،یہ رقم بجٹ کے مجموعی حجم کا بہت بڑ احصہ بنتا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئندہ مالی سال میں بھی ہماری سمت کیا ہو گی ۔

اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ پرانے قرض کو اتارنے کیلئے نیا قرض لینا اور پھر اس پر سود کی ادائیگی ایسا چکر ہے جس نے ہماری معیشت کو ایسا جکڑ کر رکھا ہوا ہے کہ معیشت کے لئے سانسیں بحال رکھنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے اور لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس گھن چکر کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال نئے ٹیکسز لگاتی ہے ، ترقیاتی اخراجات کم کرتی ہے، لیکن قرض اور سود کا بوجھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتا ہے،اس کے نتیجے میں معیشت کا ایک بڑا حصہ پیداواری سرگرمیوں کے بجائے قرضوں کے گرد گھومنے لگتا ہے۔

انہوںنے کہا کہ بیرونی سے پہلے اندرونی قرضوں کے بوجھ کو کم یا ختم کرنے کیلئے قابل عمل راستہ ڈھونڈنا ہوگا اور اس کے لئے حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز اور معاشی ماہرین کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھے اور کوئی حل تجویز کر کے اس پر پیشرفت کی جائے ۔ جس ملک کے بجٹ کا 42فیصد سے زائد حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کی نذر ہو رہا ہے تو اسے اگلے بجٹ کی نہیں بلکہ اگلی نسلوںکی فکر کرنی چاہیے جس کا ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض ہے۔اس معاملے پر فوری طور پر پیشرفت کی جائے اور پہلے مرحلے میں قرض اتارنے کے لئے قومی پالیسی تیار کر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے ۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ لکھیں