بیجنگ (نیوز ڈیسک)رواں موسم گرما میں، متعدد یورپی ممالک ہیٹ ویو کے شکار ہوئے اور چین آنے والے سیاحوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چین میں غیر ملکی سیاحوں کی سفری سرگرمیوں پر گہری نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ طویل عرصے سے بیجنگ، شنگھائی اور شی آن جیسے روایتی سیاحتی مقامات سے آگے بڑھ چکے ہیں: کچھ بلٹ ٹرین کے ذریعے سنکیانگ کے ای نینگ اورشی زانگ کے نینگچی کا دورہ کرتے ہیں جب کہ دیگر چھوٹے برقی سازو سامان خریدنے کے لیے شن زن شہر کی حواچھیانگ بے مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں،وغیرہ۔گرمی سے بچاؤ یقیناً ایک وجہ ہو سکتی ہے ، تاہم چین کا دورہ کرنے کی لہر کے پیچھے کھلے پن اور لوگوں کے معاش کا گہرا پہلو پوشیدہ ہے۔
چائنا نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کی پہلی ششماہی میں، 22.91 ملین سے زائد غیر ملکی چین میں داخل ہوئے، جو کہ سال بہ سال 20.4 فیصد کا اضافہ ہے اوریہ ایک حقیقی اضافہ ہے۔ماضی کے برعکس، جب چین آنے والے زیادہ تر کاروباری لوگ ہوا کرتے تھے، اب سیاحت، تفریح اور مختصر کاروباری مقاصد کے لیے چین میں داخل ہونے والے غیر ملکی شہریوں کا تناسب تاریخ میں پہلی بار 60 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ غیر ملکی سیاح اب صرف سیاحتی مقامات کی سیر تک محدود نہیں رہے بلکہ خریداری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
جولائی کے وسط میں شن زن شہر کے حواچھیانگ بے اور صوبہ زے جیانگ کے ای وو کی تازہ ترین مارکیٹ بریفنگ سے پتہ چلتا ہے کہ جیسے ہی ان دونوں مارکیٹس میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی، گردن پر رکھنے والے ایئرکنڈیشنر اور اے آئی اسمارٹ مسٹنگ فین سمیت چینی ساختہ چھوٹے برقی سازو سامان کی خوردہ برآمدی قدر گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 300 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
چین کے قومی ادارہ شماریات کے زبردست اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ اس سال کی پہلی ششماہی میں، ملک کے اہم بڑے شہروں میں ڈیوٹی فری شاپس پر فروخت میں سال بہ سال 2.8 گنا کا اضافہ دیکھا گیا۔ صرف صوبہ گوانگ ڈونگ میں غیر ملکی انفرادی خریداری سے وابستہ کم قدروالی خوردہ برآمدات کی کل مالیت 45 بلین یوآن سے تجاوز کرگئی۔ مشہورسیاحتی مقامات کی سیر کے علاوہ، غیر ملکی سیاح مقامی کھپت میں براہ راست حصہ لیتے ہیں، جس کی بدولت چین میں مقامی کیٹرنگ، رہائش، اور خوردہ صنعتوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
اپ گریڈ اقدامات کا ایک جامع سیٹ اس مضبوط کشش کا باعث بنا ہے، جس نے چین کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کے تجربے کو مؤثر طریقے سے بہتر بنایا۔ چند برس قبل چین آنے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے ادائیگی کا نظام ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا تھا ۔ لیکن آج، وی چیٹ اورعلی پے جیسے چین کے ادائیگی کے مین سٹریم چینلز بڑے عالمی بینک کارڈ تنظیموں کا احاطہ کرچکے ہیں، اور دوسری سہ ماہی میں چین میں غیر ملکی موبائل ادائیگی کے لین دین کی کامیابی کی شرح 98 فیصد سے زائد پر مستحکم رہی۔
نقل و حمل کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں: ملک کے تمام بڑے بندرگاہوں اور ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشنوں پر گیٹ مشینوں کو جدید بنایا گیا ہے، جس کے باعث غیر ملکی مسافر پاسپورٹ کے ذریعے تین سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اسٹیشن سے گزر سکتے ہیں۔ہائی اسپیڈ ٹرینوں کے بہتر نیٹ ورک کی وجہ سے سنکیانگ، شی زانگ اور دیگر مقامات کا سفر کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں سال بہ سال 6.3 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید براں، بڑے سیاحتی مقامات کو کثیر لسانی اے آئی آڈیو گائیڈز سے لیس کیا گیا ہے، جو روزانہ ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد غیر ملکی سیاحوں کی خدمت کرتے ہیں۔ سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دونوں کی بیک وقت بہتری کے ساتھ، غیر ملکی سیاح آزادانہ طور پر چین کی سڑکوں اور گلیوں کی سیر کر سکتے ہیں اور حقیقی مقامی زندگی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔
مسافروں کی آمدورفت میں نمایاں اضافے کے پیچھے چین کی ویزا فری پالیسی کی مسلسل توسیع ہے۔ ” دیوار کھڑی کرنے” کی وکالت کرنے والے کچھ مغربی ممالک کے پیش نظر، چین نے مساوی پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ملک میں داخلے کے معیارات میں نرمی جاری رکھی: چین میں ویزا فری ٹرانزٹ کی زیادہ سے زیادہ مدت اب 240 گھنٹے تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے 54 ممالک کے شہری فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔سال کی پہلی ششماہی میں، 65 فیصد سے زیادہ غیر ملکی سیاح بغیر ویزہ کے چین میں داخل ہوئے، اور فرانس، جرمنی اور اٹلی جیسے یورپی ممالک سے آنے والوں کی تعداد میں سال بہ سال 180 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔
ویزا فری پالیسیاں تبادلوں کووسیع بناتی ہیں، بہتر خدمات سفری تجربے کو بہتر بناتی ہیں، اور حقیقی روزمرہ کی زندگی کے تجربے غلط فہمیوں کو ختم کرتے ہیں۔ جولائی کے اوائل میں، ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل نے چین میں سیاحوں کے تجربات پر ایک سروے جاری کیا۔ جس میں اعداد و شمار کا ایک سیٹ خاص طور پر سیاحوں کو راغب کرتا ہے: پہلی بار چین کا دورہ کرنے والے غیر ملکیوں میں سے 85 فیصد سے زیادہ نے واضح کیا کہ حقیقی چین ان کے اپنے ملک کی میڈیا رپورٹس سے بالکل مختلف ہے، اور یہاں تک کہ ان کی توقعات سے کہیں بہتر ہے۔
سیاحت صرف تفریح، کھانے اور خریداری کا نام نہیں ہے۔یہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے بھی ایک ابتدائی کڑی ہے۔ متعدد غیر ملکی سیاح مارکیٹ کی سیر کے دوران صنعتی چین کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں اور سرحد پار کے آرڈرز اور معاملات طے کرتے ہیں۔ چین کے متعدد علاقوں میں ‘نمائش + سیاحت’ کا ماڈل نمایاں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ اندرون ملک کھپت سروس ٹریڈ کی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بناتی ہے، اور چین کے ساحلی صوبوں میں نئے قائم ہونے والے غیر ملکی صنعتی و کاروباری اداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو “سیاحت اعتماد کو فروغ دیتی ہے، اور اعتماد تعاون کو فروغ دیتا ہے” کا ایک بہترین دور تشکیل دے رہے ہیں۔
مسلسل بڑھتی ہوئی غیر ملکی سیاحوں کی آمد چین کے بیرونی دنیا کے لیے کھلے پن کا سب سے واضح ثبوت ہے۔ زیادہ کھلا پن ،عالمگیریت مخالف لہر کے لیے چین کی جانب سے جواب ہے۔ سہولیات کی فراہمی اور کھلے دل سے مہمان نوازی پر مبنی یہ جامعیت، چین کے لیے دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کو برقرار رکھنے کی اصل طاقت ہے۔ مسلسل آنے والا سیاحتی اور ثقافتی رش بتدریج اقتصادی اور تجارتی تعاون نیز لوگوں کے درمیان میل جول کے فوائد میں تبدیل ہو رہا ہے۔ چین اپنے مخلصانہ کھلے پن کے ذریعے عام شہریوں کی حقیقی روزمرہ کی زندگی سے دنیا کو ایک حقیقی، متحرک اور قوت حیات سے بھرپورچین دکھا رہا ہے۔