سید مراد علی شاہ

سندھ بھر میں امن، استحکام اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سید مراد علی شاہ

کراچی (نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، ضیاءالحسن لنجار، ریاض شاہ شیرازی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن اور محکمہ داخلہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک تھے ۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ امن امان کی صورتحال پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کوئی نرمی نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا عزم ۔

دہشت گردوں، منشیات فروشوں اور بھتہ خوروں کے خلاف کارروائیاں مزید مو¿ثر بنائی جائیں، تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے کام جاری رکھیں، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی بریفنگ دی ۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ2026ءکے پہلے چھ ماہ میں سندھ میں سنگین جرائم، دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئے ہے، انٹیلی جنس پر مبنی پولیسنگ، اداروں کے مو¿ثر تعاون اور ہدفی کارروائیوں سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، پولیس اور سیکیورٹی ادارے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید مو¿ثر اور تیز کریں، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت کی۔جنوری تا جون 2026 کے دوران قتل کے واقعات میں 17.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، قتل کے ساتھ ڈکیتی کے واقعات میں 19.4 فیصد کمی رپورٹ ہوئی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی،زخمی کرنے والی ڈکیتی کے واقعات میں 25.4 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے، ڈکیتی اور رہزنی کے واقعات میں 18.9 فیصد کمی رپورٹ ہوئی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دی۔

کار چھیننے کے واقعات میں 23.9 فیصد جبکہ موٹرسائیکل چھیننے میں 31.1 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔موٹرسائیکل چوری کے واقعات میں 22.1 فیصد کمی ہوئی ہے، صوبے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی پولیس کی بہترین حکمت عملی ہے، موبائل فون چھیننے کے بڑھتے واقعات پر خصوصی توجہ دی جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت ۔کراچی میں مجموعی اسٹریٹ کرائم میں 11.77 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے، ڈکیتی کے دوران اموات میں 38.3 فیصد اور زخمی ہونے کے واقعات میں 39.1 فیصد کمی رپورٹ ہوئی ہے۔کراچی میں گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 24.3 فیصد اور موٹرسائیکل چھیننے میں 27.8 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔اسٹریٹ کرائم کے ہاٹ اسپاٹس کے خلاف مو¿ثر کارروائیاں مزید تیز کی جائیں، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت کی۔

پولیس آپریشنز سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی کہ 2026ءکے پہلے چھ ماہ میں 2,184 پولیس مقابلے ہوئے، گزشتہ سال سے یہ تعداد 1,574 تھی۔سندھ پولیس نے 1,087 جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا، پولیس کارروائیوں میں 187 خطرناک ملزمان ہلاک ہوئے، ہزاروں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔غیر قانونی اسلحے کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں پستول، ریوالور اور دیگر ہتھیار برآمد کیے۔منشیات فروشوں کے خلاف 7,027 چھاپے مارے گئےاور 9,096 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔انسدادِ منشیات مہم کے دوران 7,468 مقدمات درج کیے گئے، پولیس کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں ہیروئن، چرس، آئس اور شراب برآمد کی گئیں۔تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں اور آن لائن ڈرگ نیٹ ورکس کے خلاف خصوصی آپریشنز جاری ہے۔

منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے، بھتہ خور گروہوں کے خلاف کارروائی سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی۔کراچی میں بھتہ خوری کے مقدمات میں 81 فیصد کیسز ٹریس کیے گئے ، کئی بدنام زمانہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا اور متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے، بیرون ملک مفرور بھتہ خوروں کے خلاف چار ریڈ نوٹس جاری جاری کیے گئے ہیں، دہشت گردی واقعات سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں بریفنگ دی گئی۔2026ءمیں دہشت گردی کے واقعات میں 75 فیصد کمی سامنے آئے ہے، سی ٹی ڈی کے 777 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 355 دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا۔کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے عناصر کو بھی گرفتار کیا گیا، کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں، کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی ۔آپریشن نجاتِ مہران کے تحت دریائی کچے کے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں، گزشتہ 6 ماہ میں کچے کے علاقوں میں 141 پولیس مقابلے اور 275 ڈاکو ہلاک ہوئے، آپریشن نجاتِ مہران میں سیکڑوں گرفتاریاں، مغوی بازیاب، بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا۔

550 ڈاکو گرفتار یا ہتھیار ڈال چکے ہیں، کچے کے علاقوں میں آپریشنز جاری ہے، چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی۔ وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے کہا کہ سندھ میں 2 ہزار سے زائد چینی شہریوں کو جامع سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، چینی شہریوں، غیر ملکی سفارتی مشنز اور حساس تنصیبات کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، سندھ سیف سٹیز اور اسمارٹ سرویلنس سسٹم سے متعلق اجلاس میں بریفنگ دی۔کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے میں 1,325 جدید کیمرے نصب ہوچکے ہیں، آئی جی پولیس نے کہا کہ سیف سٹی نظام سے ملزمان کی گرفتاری، چوری شدہ گاڑیوں کی برآمدگی اور تفتیش میں نمایاں مدد ملی ہے، 1.4 ارب روپے کے سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم کے تحت 40 ٹول پلازوں پر 381 کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔اسمارٹ سرویلنس سسٹم کی مدد سے 496 ملزمان گرفتار، 349 گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں، ہائی ویز اور ٹریفک سیکیورٹی سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں بریفنگ دی۔

سندھ پولیس ہائی وے پٹرول 2,150 کلومیٹر شاہراہوں پر فعال ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مسافروں کو سہولیات اور تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، TRACS کے تحت 12 لاکھ 40 ہزار سے زائد ڈیجیٹل چالان جاری کیے گئے،TRACS کے نفاذ سے ٹریفک حادثات میں 44 فیصد، اموات میں 19 فیصد اور زخمیوں میں 27 فیصد کمی رپورٹ کی۔سرحدی نگرانی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی۔

وزیراعلیٰ سندھبین الصوبائی سرحدوں اور ساحلی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے، صوبے بھر کے 139 کراسنگ پوائنٹس پر نگرانی سخت کی گئی ہے، پولیس چوکیاں، اسنیپ چیکنگ، موبائل اور موٹرسائیکل پٹرولنگ میں اضافہ کیا گیا ہے، حب-کراچی، جامشورو-حب، دادو-خضدار، کشمور-ڈیرہ بگٹی-راجن پور، گھوٹکی-رحیم یار خان اور ساحلی علاقوں سمیت اہم سرحدی مقامات کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا گیا۔بین الصوبائی سرحدوں پر نگرانی مزید سخت کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جائے، سندھ بھر میں امن، استحکام اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں