ماتلی(کامرس ڈیسک) سندھ بھر میں گندم، آٹا اور اس سے تیار مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے مہنگائی کے نئے بحران کو جنم دے دیا ہے۔سرکاری نرخ 3500 روپے فی 40 کلو ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں گندم 3700 سے 3800 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ ایک ہفتے میں 40 کلو آٹے کا تھیلا تقریبا 600 روپے مہنگا ہو گیا ہے۔
ریٹیل سطح پر آٹا 120 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔میدے اور چوکر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے مویشی پال حضرات اور ڈیری فارمرز متاثر ہو رہے ہیں اور دودھ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق ذخیرہ اندوزی، نجی شعبے کی بڑے پیمانے پر خریداری اور سرکاری خریداری ہدف حاصل نہ ہونے کے باعث مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہوا ہے۔شہریوں نے حکومت سندھ سے نرخوں پر عملدرآمد اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭












