اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہاہے کہ اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ حکومت نے اپنے ہی پیدا کردہ بحران کو جزوی طور پر درست کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والا ٹیکس تقریبا چار گنا بڑھ گیا تھا، یہ طبقہ غیر معمولی بوجھ برداشت کر رہا تھا، اس لیے ٹیکس میں کمی ایک مثبت قدم ہے۔تاہم ٹیکس سلیبز میں جو معمولی ردوبدل کیا گیا ہے، اس کا فائدہ محدود ہوگا، مثال کے طور پر اگر کسی ملازم کی تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے ہے اور اس میں معمولی اضافہ ہوتا ہے تو وہ اگلے ٹیکس بریکٹ میں چلا جاتا ہے، جس سے اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے اس کے باوجود یہ اقدام ایک مثبت پیشرفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان گزشتہ چار برس سے چار فیصد معاشی شرح نمو بھی حاصل نہیں کرسکا، جو ملکی تاریخ میں غیر معمولی صورتحال ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ایسی پالیسیاں متعارف کرائی جاتیں جو معیشت کو متحرک کرتیں، برآمدات میں اضافہ کرتیں، روزگار کے مواقع پیدا کرتیں اور معاشی نمو کو فروغ دیتیں۔