ادویات

گزشتہ دوبرس میں 55 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سروے رپورٹ

اسلام آباد(ہیلتھ رپورٹر )ملک میں گزشتہ دو برسوں کے د وران 55 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس عرصے میں 42 فیصد ادویات کی قیمتوں میں کچھ کمی بھی دیکھی گئی،جبکہ 2 اعشاریہ 27 فیصد ادویات کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ(نے نان اسینشل ادویات کی ڈی ریگولیشن کے بعد قیمتوں میں اضافے سے متعلق دوسرا سروے مکمل کرلیا۔

ذرائع کے مطابق پہلے اور دوسرے سروے کی رپورٹس آئندہ ہفتے وزیراعظم کوپیش کی جائیں گی،نگران حکومت کے دورمیں نان اسینشل ادویات کی قیمتوں پرحکومتی کنٹرول ختم کردیاگیا تھا،جس کے بعد دوا سازکمپنیاں اپنی مصنوعات کی قیمتیں خود مقرر کرنے کی مجاز ہوگئیں۔ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پرابتدائی طورپر 100 نان اسینشل برانڈزکاسروے کیاگیاتھا،جبکہ دوسرے مرحلے میں ڈریپ نے 500 نان اسینشل برانڈز کی 700 سے زائد ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لیا۔

دوسرے سروے کےلئے کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد، فیصل آباد اورملتان کا انتخاب کیاگیا،جہاں 192 فارمیسیز اور میڈیکل اسٹورز پر دستیاب ادویات کی قیمتوں کا موازنہ کیا گیا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ ادویات سے متعلق تھرڈ پارٹی سروے بھی جلدوفاقی کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے،نان اسینشل ادویات کی ڈی ریگولیشن برقرار رکھنی ہے یا نہیں، اسکا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔تاہم جان بچانے والی اسینشل ادویات تاحال حکومتی کنٹرول میں ہیں جن کی قیمتوں کا تعین سالانہ شرح مہنگائی کے تحت ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں