اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے، طالبان حکومت یہ ضمانت دینے کو تیار نہیں کہ شدت پسندوں کی پشت پناہی ختم کرے گی اور افغان سر زمین سے پاکستان پر حملے نہیں ہوں گے،کابل ہندوتوا کی جنگ لڑ رہا ہے، بات نہیں مانیں گے تو کھلی جنگ ہوگی، جو دہلی کے ساتھ کیا، وہی کابل کے ساتھ کریں گے، دہشت گردی کے معاملے پر وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت ایک پیج پر ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیامِ امن کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ہماری فوج دہشت گردی کے خلاف روزانہ قربانیاں دے رہی ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی بنی ہوئی ہے اور پاکستان کے خلاف اب جنگ کابل سے بیٹھ کر لڑی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب براہِ راست پاکستان سے لڑنے کے بجائے افغانستان کے ذریعے کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔وزیر دفاع نے کہا پاکستان نے افغانستان سے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار گفت و شنید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغان طالبان رجیم کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے اور دہشت گردی کے دوران بھی رابطے جاری رکھے گئے۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان زبانی دعوے تو کرتے ہیں لیکن تحریری یقین دہانی دینے کیلئے تیار نہیں جبکہ افغانستان پاکستان کو مطلوب سکیورٹی گارنٹی دینے پر بھی آمادہ نہیں۔ ویر دفاع کا کہنا تھا کہ پہلے خیبرپختونخوا حکومت کا تعاون حاصل نہیں تھا تاہم اب دہشت گردی کے معاملے پر وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت ایک پیج پر ہیں۔وزیردفاع نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری بقا کی جنگ ہے، دہشتگردی کو صوبائی مسئلہ نہ بنائیں یہ قومی مسئلہ ہے، معرکہ حق کی تقریب میں انہیں مدعو کیا گیا کوئی نہیں آیا، ان کا نام نہیں لینا چاہتا جنہیں بلایا گیا۔ پاکستان کی بجائے ہم یہاں سیاسی فائدے کے لیے صوبے کی بات کرتے ہیں۔
تمام صوبوں میں پاک فوج کے جوان پاکستان کیلئے شہادتیں دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے معاملے پر قومی اسمبلی میں باضابطہ بحث کی جائے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فاٹا کے لیے جو کمٹمنٹ ہوئی تھی اس پر عمل نہیں ہوا، تمام صوبوں نے اتفاق کیا تھا کہ فنڈز میں کنٹری بیوشن کریں گے، وفاقی کی ذمہ داری جزوی ہے ، مسئلہ کا حل ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج غیر مشروط شہادتیں دے رہی ہے، اگر کوئی بچہ سرحد پر جا کر اپنی جان دیتا ہے اس کی شناخت پاکستان ہوتی ہے۔
خواجہ آصف نے افغانستان کی طالبان حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کابل ہمارے خلاف ہندوتواکی جنگ لڑ رہا ہے، اس وقت دہلی اورکابل میں کوئی تفریق نہیں ، اگروہ تیار نہیں توکابل کےساتھ وہی کریں گے جو دہلی کے ساتھ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں، چاہے مشرقی سرحد ہو یا مغربی، اس وقت دونوں سرحدوں پر ایک ہی دشمن ہے، ہم نے 3 ملکوں کے ساتھ مل کر ان کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، قطر ، سعودی عرب اور ترکیہ نے بھی مذاکرات میں ہمارا ساتھ دیا اور بعض مواقع پر کابل حکومت کے ساتھ 19،19 گھنٹے طویل بات چیت ہوئی۔ دہشتگردی کے دوران بھی بات جاری رکھی، ہم نے افغانستان سے بات کرکے دیکھی ہے۔