خواجہ سلمان رفیق

ڈینگی وائرس کے تدارک کیلئے تمام اداروں کو متحرک ہونا ہوگا’ خواجہ سلمان رفیق

لاہور (ہیلتھ ڈیسک)صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں ٹیکنیکل ورکنگ گروپ برائے ڈینگی وائرس کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں پروفیسر مجید چوہدری، ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل، ڈی جی زراعت، پروفیسر طارق میاں، پروفیسر ملازم حسین بخاری، ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر خالد، عالمی ادارہ صحت سے ڈاکٹر جمشید اور ڈاکٹر عرفان احمد، پی آئی ٹی بی افسران، ڈاکٹر عامر جوہری، ڈاکٹر صوبیہ قاقی، سی ڈی اینڈ ای پی سی سے ڈاکٹر معیز اور ڈاکٹر شعیب سمیت آئی پی ایچ کے فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔

وڈیو لنک کے ذریعے چیئرمین ڈی ایگ پروفیسر خرم نے شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے پبلک ہیلتھ لیبارٹری کا بھی افتتاح کیا۔صوبائی وزیر صحت نے اجلاس کے دوران صوبہ بھر میں ڈینگی وائرس کی موجودہ صورتحال اور تدارک کیلئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل اور متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر صحت کو بریفنگ دی۔صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے دوران سرویلنس بہتر کرنے کی ہدایت کی۔صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام محکمہ جات کو آنکھیں کھول کر کام کرنا ہوگا۔عوام اپنے گھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کو یقینی بنائیں۔ہمیں فیلڈ میں سرویلنس کو تیز اور بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

فیلڈ سٹاف کی ٹریننگ کروائی جا رہی ہے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ اس وقت دنیا کے کئی ممالک ڈینگی وائرس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ڈینگی وائرس پر قابو پانے کیلئے اقدامات اٹھانا کسی ایک محکمہ کی نہیں بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے۔

ڈینگی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے فیلڈ سٹاف متحرک ہے۔فیلڈ میں بوگس کارکردگی پر ایکشن لیا جائے گا۔صوبائی وزیرصحت نے کہاکہ لارواء کے تدارک کیلئے موئثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے۔ڈین آئی پی ایچ پروفیسر سائرہ افضل نے کہاکہ والدین بچوں کو ڈینگی سے بچانے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔محکمہ صحت کے ساتھ باقی تمام محکمہ جات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔پارکس اینڈ کلچر اور واسا سمیت دیگر اہم محکمہ جات کو محنت کرنی ہوگی۔ماسٹر ٹرینرز اینٹومولوجسٹس کی ریفرریشر تربیت کروائی جائے۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ لکھیں