اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک افواج نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جسے وہ رہتی دنیا تک یاد رکھے گا، پاکستان کا قومی بیانیہ واضح ہے کہ ایٹمی اثاثے جارحیت کے لیے نہیں بلکہ ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے ،پاکستان نے 28 مئی کو دفاع کے لیے ایٹمی قوت حاصل کی، جس کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے کیا اور اسے مکمل کرنے کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔
ان خیالات کااظہار وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔وزیر اعظم نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور ملک کی سکیورٹی و معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی جب کہ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان نے بھارت کو وہ سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔اجلاس کے آغاز میں کابینہ اراکین نے شہدا کے لیے خصوصی دعا کی اور شہید لیاقت علی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ قوم کے بہادر سپوت لیاقت شہید کو ستارہ شجاعت دلوایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کے خون سے اس دھرتی کی آبیاری ہو رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا معرکہ حق میں پوری قوم یک جان اور دو قالب تھی، جبکہ 10 مئی کو اس معرکے کو منایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے بہادری سے دشمن کو شکست دی اور ملک بھر میں اس موقع پر تقریبات منعقد ہوئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 28 مئی کی آمد آمد ہے، یہی وہ دن تھا جب پاکستان ایٹمی قوت بنا، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے تمام قومی ہیروز کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔پاکستان نے 28 مئی کو دفاع کے لیے ایٹمی قوت حاصل کی، جس کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے کیا اور اسے مکمل کرنے کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے رہے جبکہ عارضی جنگ بندی کے باوجود دیگر ممالک کی طرح پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوئی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قومی بیانیہ واضح ہے کہ ایٹمی اثاثے جارحیت کے لیے نہیں بلکہ ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ہیں۔ ایٹمی طاقت کے بعد اب پاکستان کو معاشی طاقت بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے بطور ٹیم دو سال میں نمایاں کوششیں کی ہیں۔