بیجنگ(انٹرنیشنل نیوز )چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع نہیں ہونی چاہئے تھی، جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں،اس جنگ نے نہ صرف ایرانی عوام بلکہ پورے خطے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔چینی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران تنازع کے اثرات عالمی معیشت، سپلائی چین، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی عالمی ترسیل پر بھی منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
بیان میں حالیہ امریکا ایران جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ مذاکرات کا دروازہ کھل چکا ہے، اسے دوبارہ بند نہیں ہونا چاہیے۔چین نے زور دیا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا درست راستہ ہے جبکہ طاقت کا استعمال ڈیڈ اینڈ یعنی تباہ کن راستہ ثابت ہوگا۔
چین نے خلیجی سمندری راستوں، خصوصا آبنائے ہرمز، کو جلد از جلد بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل کے استحکام کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔ ایران تنازع کا حل نکالنا امریکہ اور ایران کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کے لئے بھی فائدہ مند ہے، ہمیں جلد از جلد مذاکرات اور رابطے کے چینلز دوبارہ کھولنے چاہئیں، ایک جامع اور دیرپا جنگ بندی جلد از جلد ہونی چاہیے بیان میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطی اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے فوری اور جامع جنگ بندی ناگزیر ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور چین نے خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔چین نے کہا کہ وہ شی جن پنگ کے مشرق وسطی میں امن سے متعلق چار نکاتی وژن کے مطابق اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا تاکہ خطے میں مستقل امن قائم ہوسکے۔۔وزارت خارجہ کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان متعدد معاملات پر اتفاق رائے ہوا ہے، ایران جنگ کو شروع ہونا ہی نہیں چاہئے تھا، جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں، چین نے ہمیشہ مکالمے اور مذاکراتی عمل کی حمایت کی ہے۔