واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے مکمل تباہ کردیا جائےگا،چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو ان کی حکومت کی کامیابیوں کی تصدیق ہے۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا امید ہے ایران یہ انٹرویو دیکھ رہا ہوگا، امریکا جانتا ہےکہ ایران نے زیر زمین سے کچھ میزائل نکالے ہیں، لیکن یہ سب ایک ہی دن میں تباہ کردیے جائیں گے۔
ایران کی سرزمین سے افزودہ یورینیم واپس لینے سے متعلق سوال پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ضروری نہیں ہے، سوائے عوامی تعلقات کے نقط نظر سے۔دریں اثنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے دورے کے دوران اپنی انتظامیہ کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو ان کی حکومت کی کامیابیوں کی تصدیق ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ جب شی جن پنگ نے امریکہ کو ایک زوال پذیر ملک کے طور پر بیان کیا تو دراصل ان کا اشارہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے 4 سالہ دور حکومت میں ہونے والے نقصانات کی طرف تھا، اس معاملے میں شی جن پنگ کا اندازہ درست تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ کا یہ تبصرہ ان کے موجودہ دور حکومت کے دوران امریکہ میں ہونے والی بہتری اور بحالی کی طرف نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق صرف سابقہ انتظامیہ کے دور سے تھا۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ موقف بھی دہرایا کہ ان کی حکومت کے دوران امریکہ کی عالمی حیثیت میں بہتری آئی ہے اور ملک دوبارہ مضبوط ہو رہا ہے۔
شی جن پنگ نے امریکا کی تنزلی کا ذکر انتہائی شائستگی سے کیا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ اب اسٹاک مارکیٹ، روزگار اور بیرونی سرمایہ کاری میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق معاملات پر ان کی اور چینی صدرشی جن پنگ کی سوچ کافی حد تک یکساں ہے اور دونوں رہنما خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ ڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے چینی صدر سے ایران کی صورتحال پر گفتگو کی، جس کے دوران دونوں رہنماں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے معاملے پر بہت حد تک ایک جیسا موقف رکھتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ تنازع ختم ہو۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہو، اور ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے کھلی رہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ خطے کی صورتحال کافی حد تک پاگل پن کی شکل اختیار کر چکی ہے اور یہ صورتحال کسی طور قابل قبول نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ ختم ہو کیونکہ وہاں حالات غیر معمولی اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، یہ جاری نہیں رہ سکتا۔