لاہور(کامرس ڈیسک)ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے اعلی کوالٹی کے آم کی برآمد کیلئے مزید اقدامات شروع کر دئیے ہیں.
اور اس تناظر میں ایک پائلٹ پراجیکٹ کے تحت پاکستان کے دو اہم آم پیدا کرنے والے صوبوں سندھ اور پنجاب کے اضلاع میں ”بیگنگ ”کا آغاز کیا گیا ہے۔
سندھ کے اضلاع میں تقریباً 10 فارمز اور ملتان میں 15 فارمز کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں یہ منصوبہ جاری ہے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر فرید اقبال قریشی نے کہا ہے کہ روایتی صنعتوں کے علاوہ ایسے شعبے ہیں جن میں برآمدات کی بہت زیادہ گنجائش ہے اور زراعت ان میں سے ایک ہے،اگر آم کی کوالٹی کو یقینی بنایا جائے تو زرمبادلہ میں اضافے کے ساتھ کاشتکاروں کو بہتر منافع حاصل ہوگا ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال قازقستان کو آم کی برآمد سے 36 ملین ڈالر حاصل ہوئے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت اعلیٰ کوالٹی کے آم کی بیگنگ کے لئے جو تھیلے دئیے گئے ہیںاس سے آم کی کاسمیٹک قدر محفوظ رہے گی جبکہ بیگنگ پھلوں کومکھیوں سے بھی محفوظ بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بیگنگ یورپی یونین، برطانیہ وغیرہ میں باضابطہ اعلی درجے کی منڈیوں تک رسائی کے لیے درکار سرٹیفیکیشن میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس، پاکستانی آم زیادہ تر مشرق وسطی کے ممالک کی روایتی منڈیوں میں پہنچتے ہیں۔ ٹڈیپ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کل برآمدات میں برآمدات کا حصہ 6 فیصد سے کم ہے جس میں اس طرح کے اقدامات سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عام طور پر بیرون ملک رسمی منڈیوں کے معیارات کی تعمیل نہیں کرتے ہیں، موثر اور معاون انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی سپر مارکیٹوں میں آم کی برآمد کو قابل بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ یورپی یونین اور برطانیہ کے 70 فیصد صارفین ان منڈیوں سے پھل خریدتے ہیں۔اگر حالیہ اٹھائے جانے والے ان اقدامات کے اچھے نتائج سامنے آئے تو آم کے پیدا کرنے والے ان پر عمل کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوں گے۔ ٹڈیپ کے کے ایگریکلچر کنسلٹنٹ ڈاکٹر مبارک احمد نے کہا کہ اگر یہ اقدام موثر ہوتا ہے امید ہے کہ اگلے سال آم کی بیگنگ کے اقدام کو کسانوں کے تھیلوں کے لیے مخصوص مختص کے ساتھ بڑے پیمانے پر فروغ دے گی اور اس اقدام کو برآمد سے مشروط کر دیا جائے گا۔