تہران،اومان، ابوظہبی(انٹرنیشنل نیوز )آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار ملاحوں اور سیکڑوں جہازوں کے انخلا کےلئے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ۔انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او )کے مطابق یہ کارروائی ایران، عمان، امریکا اور خطے کے دیگر ملکوں کے تعاون سے انجام دی جائے گی۔
آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے ضروری سکیورٹی ضمانتیں حاصل کر لی ہیں اور محفوظ بحری نقل و حرکت کے لیے حالات کا مکمل جائزہ لے لیا ہے تاکہ ان آپریشنز کو ممکن بنایا جا سکے۔آئی ایم او کی ایک ترجمان نے بتایا کہ ادارے نے انخلا کے عمل کے آغاز کے لیے جہازوں سے رابطہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔دوسری جانب عمان نے آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے کا اعلان کردیا۔
عمانی خبررساں ایجنسی نے نئی بحری ہدایات جاری کر دیں،آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے کا اعلان کردیا ۔آبنائے ہرمز سےگزرنے والے جہازوں کیلئے پیشگی رابطہ لازمی قراردیا گیا ہے،عمان کا کہنا ہے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔ قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کا کہناتھا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پرکوئی ٹول یافیس نہیں لگا سکتا، عالمی آبی راستے پر ٹیکس یا فیس لگانا بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔
مارکو روبیو نے ابوظہبی میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ایران کوانقلابی تحریک کے بجائے بطورریاست کام کرناہوگا،ایران دہشت گردی کی برآمد ترک کرے توترقی کے وسیع مواقع موجودہیں۔ مارکوروبیو نے کہا خطے میں امن ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو روکنے سے مشروط ہے مشرق وسطی میں تنازعات کے خاتمے کےلئے دیرپا حل ضروری ہے،لبنان کامستقبل لبنانی عوام اور منتخب حکومت کے ہاتھ میں ہے۔امریکی وزیرخارجہ کاکہنا تھاکہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے علاقائی امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، عراق میں بھی حماس، حزب اللہ جیسے گروہ دہشتگردی میں ملوث ہیں۔