بھارتی وزیر تعلیم

مودی سرکار کی غلط پالیسیاں، نوجوانوں کا بھارتی وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک )مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، بھارتی نوجوانوں نے بھارتی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ وزیر تعلیم کے استعفے کیلئے کاکروچ جنتا پارٹی نے مہم کا آغاز کر دیا، کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں ہفتہ کے روز پرامن احتجاج کی اپیل کی گئی تھی ۔

بھارتی نوجوانوں نے کہا کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبا کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے۔واضح رہے کہ چند روز میں کاکروچ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالورز ہوچکے ہیں، کاکروچ پارٹی کے نام سے جین زی انقلابی تحریک زور پکڑگئی ہے۔دوسری جانب بھارت میں مشہور کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی پارٹی کی جانب سے احتجاج کو لیڈ کرنے کیلئے بھارت پہنچ گئے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے جنتر منتر احتجاجی سائٹ کیلئے دہلی ایئرپورٹ سے روانہ ہوگئے ۔ سی جے پی نیٹ، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی جیسے اہم قومی امتحانات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر ایک بڑا احتجاجی مظاہر ہ کیا ۔ جس میں بڑی تعداد میں جین زی نے شرکت کی۔ اس دوران سی جے پی کے بانی نے بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے کو احتجاج کا ایک نکاتی ایجنڈا قرار دیا۔اس حوالے سے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ۔

دلی پولیس نے ابھیجیت دیپکے سے ایئرپورٹ پر ملاقات کے بعد انہیں جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کرنے کی باقاعدہ اجازت دی۔ابھیجیت دیپکے جب ایئرپورٹ سے باہر آئے تو ان کے ہاتھ میں بھارت کے آئین کے بانی بی آر امبیڈکر کی سوانح عمری کی ایک کتاب بھی موجود تھی۔اس مظاہرے کے پیش نظر کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے حامیوں کے لیے باقاعدہ رہنما اصول یعنی کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس کی فہرست جاری کی ہے۔تنظیم نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرے کے دوران پرامن اور منظم رہیں تاکہ امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک نہیں رکیں گے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس چھوٹے سے مذاق کو ایک انقلاب میں بدل دیا جائے، اس لیے پرامن اور محبت بھرے احتجاج کے ساتھ دلی کی سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہو جائیں۔مظاہرین کے لیے جاری کردہ ہدایات میں قومی پرچم ترنگا اور کوئی کتاب ساتھ لانے کا کہا گیا ہے، ساتھ ہی ہر چیز کی ویڈیو ریکارڈ کرنے، اور کسی شرپسند کی موجودگی پر انتظامیہ یا پولیس کو اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گرمی سے بچنے کے لیے سن اسکرین لگانے، ٹوپی پہننے اور پانی ساتھ رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔دوسری طرف، رہنما اصولوں میں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ مظاہرین اکیلے نہ آئیں، کسی قسم کے دباﺅ یا اشتعال انگیزی کا جواب نہ دیں، بھوکے پیٹ نہ آئیں، پھول پھینکنے کے بجائے انہیں پرامن طریقے سے پیش کریں اور کسی بھی قسم کے پرتشدد یا خلل ڈالنے والے رویے سے دور رہیں۔

بھارت پہنچنے سے قبل ابھیجیت دیپکے نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ عوام کا ردعمل ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا ایئرپورٹ پر جمع ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس سے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، اس لیے براہ کرم دلی ایئرپورٹ پر جمع نہ ہوں۔دلی پہنچنے کے بعد انہوں نے ایکس پر لکھا کہ میں دلی پہنچ چکا ہوں اور جنتر منتر پر آپ سب سے ملنے کا منتظر ہوں، اپنے ساتھ ترنگا اور کتاب لانا نہ بھولیں اور ہمدردی و شکرگزاری کے طور پر پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں کیونکہ ہمیں اس تحریک کو محبت اور امن کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔

اس احتجاجی مہم کو نامور سماجی کارکن سونم وانگچک کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے جنہوں نے عوامی سطح پر اس تحریک کا ساتھ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ابھیجیت دیپکے کو گرفتار کیا گیا تو وہ چھ ہفتوں کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔دوسری طرف، دلی پولیس نے اس ڈیجیٹل گروپ کی احتجاجی کال کے بعد پورے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دئیے اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دلی کی سرحدوں اور دیگر حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی تھی ۔

اپنا تبصرہ لکھیں