کراچی(نیوز ڈیسک )وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفی کمال نے کہا ہے کہ اٹھارہ سالوں میں جسے ٹھیک ہونا ہوتا وہ ہو جاتا، ہم صوبوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں،ہم نے پارلیمنٹ کی سیاست کرلی، ترمیم بھی پیش کردی، اب ہم سڑکوں پر آکربات کریں گے،فیلڈمارشل نے 3 سال قبل کاروباری کمیونٹی سے خطاب کہا کہ نئے صوبے بنانا ناگزیر ہوچکا ہے، صوبے لوگوں کو نچلی سطح پر اختیارات اور وسائل نہیں پہنچارہے، اب انتہا ہوچکی یہ نظام نہیں چلے گا، سارے آئینی طریقہ کار اپنائیں گے اور اس ملک میں اختیارات کو نچلی سطح لیجانے کے لیے جدوجہد کریں گے، کراچی کو گزشتہ 18 برسوں میں سندھ کو ملنے والے 22 ہزار ارب روپے میں سے صرف 3 فیصد حصہ ملا، جبکہ سندھ کی آمدنی کا 95 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی میں پارٹی رہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مصطفی کمال نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی حکومت کراچی کو پاکستان کےلئے اپنا کردار ادا کرنے نہیں دے رہی، لاہور آج کراچی سے 50 سال آگے چلا گیا ہے، لاہور بھی تو پاکستان کا حصہ ہے، ہمیں خوشی ہے کہ لاہور آگے چلا گیا لیکن سندھ میں لاقانونیت عروج پر ہے، دنیا چاند پر جا رہی ہے اور ہمارے بچے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے شہروں میں ائیر ایمبولینس بن رہی ہیں جبکہ ہمارے ہاں سائیکل پر ایمبولنس متعارف کرائی جا رہی ہے، سندھ میں سب سے زیادہ کتے کے کاٹے سے بچے جان کی بازی ہار رہے ہیں، اگر کسی چیز کو ٹھیک ہونا ہوتا تو 18 سالوں میں ٹھیک ہو چکی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایوانوں میں بات کی نہیں مان رہے، ہم نے آئینی ترمیم دی نہیں مانی گئی، ایم کیو ایم پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم خاموش نہیں رہیں گے، اب آئین اور قانون میں رہتے ہوئے سڑکوں پر آئیں گے۔
مصطفی کمال کا کہنا تھا اٹھارویں ترمیم اپنی اصل حالت میں لاگو ہی نہیں ہوئی، انتظامی طور پر نئے صوبے بنانا اب ناگزیر ہوچکا، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے آئینی قانونی طریقہ کار اپنائیں گے۔ان کا کہنا ہے سندھ میں ہمارے بچوں کے لیے اسکول نہیں بنائے جاتے، دو کروڑ 60 لاکھ بچے سندھ میں اسکولوں سے باہر ہیں، بچیوں کے اسکول میں واش روم تک نہیں۔انہوں نے نئے صوبوں کی بات تمام پاور کوریڈورز میں چل رہی ہے، نئے صوبوں کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تائید کرتا ہوں، نئے صوبوں کے علاوہ پاکستان چلانے کا کوئی اور حل نہیں ہے۔مصطفی کمال کا کہنا تھا فیلڈمارشل نے 3 سال قبل کاروباری کمیونٹی سے خطاب کیا، خطاب میں انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانا ناگزیر ہوچکا ہے، صوبے لوگوں کو نچلی سطح پر اختیارات اور وسائل نہیں پہنچارہے، اب انتہا ہوچکی یہ نظام نہیں چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے بل پیش کردیا ہے، اب سڑکوں پرآنے والا راستہ رہ گیا ہے، کل (ا توار) کو ہمارا شاہ فیصل ٹاﺅ ن میں جلسہ ہے، کراچی کھڑا ہوگیا تو بڑی طاقتوں کوبہالے جائے گا، ریاست کو چلانے والوں کے پاس بھی اب اس مسئلے کا حل نظر نہیں آتا، ملک میں نئے صوبے اور لوکل گورنمنٹ کا نظام لانے کی ضرورت ہے ۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بلوچستان والے پاکستانی آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مان رہے، ہم تو پاکستان بنانے والے اور چلانے والے ہیں ہماری رگوں میں پاکستان بنانے والوں کا خون ہے، ہم ہر اس آواز کا ساتھ دیں گے جہاں پر ایڈمنسٹریٹیو بنیادوں پر صوبے بنانے کی بات ہو رہی ہے، ہم ریاست اور آئین میں رہتے ہوئے صوبوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کراچی پاکستان کی آمدنی کا 50 فیصد سے زائد اور سندھ کی آمدنی کا 95 فیصد سے زائد کماتا ہے، 2010 تک وفاق ہمیں ڈائریکٹ پیسے دیتا تھا، سندھ حکومت وفاق سے پیسے لے رہی ہے لیکن آگے نہیں دے رہی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کو وہی پرانا شیئر مل رہا ہوتا تو اب تک دو ہزار ارب روپے مل چکے ہوتے، پیسے کما کر دینے والے شہر کو کل رقم میں سے صرف 3 فیصد 18 سالوں میں ملا، 22 ہزار ارب میں سے کراچی کو 18 سالوں میں صرف 680 ارب روپے ملے، دلائل کے ساتھ مقدمہ عوام کے سامنے رکھیں گے۔
مصطفی کمال نے کہا کہ وفاق نے رواں بجٹ میں سندھ کو 2 ہزار 263 ارب روپے فراہم کیے، تاہم کراچی کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا، 2010 تک وفاق کراچی کو براہ راست فنڈز فراہم کرتا تھا، لیکن اب شہر کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ کراچی کے نام پر فنڈز لیے جاتے ہیں مگر شہر کی ترقی پر خرچ نہیں کیے جاتے، موجودہ سندھ حکومت کراچی کو پاکستان کی معاشی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے سے روک رہی ہے، حالانکہ کراچی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مصطفی کمال نے خیرپور میں اپنے لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والی ماں پر مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام زیر حراست افراد کو فوری رہا کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا ہمیں 1991 تک آکٹرائے ضلع ٹیکس ملا کرتا تھا، اگر پرانا نظام ہوتا تو 2 ہزار ارب کراچی کو ڈائریکٹ ملتے، ان 18 سالوں میں کراچی کو دو ہزار ارب روپے ملنے چاہیے تھے، یہاں پر حالات اچھے ہوتے، سڑکیں بنتی، اسکول بنتے، اسپتال بنتے، جب کراچی زیادہ کماتا تو وفاق کو زیادہ پیسہ دیتا لیکن سندھ کی حکومت کراچی کو پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے نہیں دے رہی ہے۔ ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں دوسرے شہر میں ایئر ایمبولینس چلانے کی بات کی جا رہی ہے اور ہمارے یہاں سائیکل ایمبولینس لائی جا رہی ہے، یہ زندہ انسانوں کا شہر اور صوبہ ہے، اگر یہاں کا سارا پیسہ یہاں لگتا تو پورے سندھ کو بلڈوز کر کے نیا سندھ بن سکتا تھا۔ مصطفی کمال نے کہا 22 ہزار ارب اگر صوبے پر لگتا تو 50 مرتبہ نیا سندھ بنا چکے ہوتے لیکن یہ سارا پیسہ دبئی ٹرانسفر ہوتا ہے جس سے دبئی کی پراپرٹی مہنگی ہو گئی ہے۔