واشنگٹن( انٹرنیشنل نیوز )امریکا کے سابق سفیر ہنری اینشر نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف مزید حملوں کے معاملے پر دباﺅ کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی فوجی آپشن موثر یا بہتر نظر نہیں آتا۔
ہنری اینشر نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر ٹرمپ بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہیں اور وہ ناکام ہو جاتی ہے یعنی ایران اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ محدود کارروائی کرتے ہیں تو پھر بھی انہیں تنقید کا سامنا ہوگا، ایک طرف جنگ مخالف حلقوں کی جانب سے اور دوسری طرف اپنے ان حامیوں کی طرف سے جو چاہتے ہیں کہ کام مکمل کیا جائے۔
سابق سفیر نے کہا کہ اگرچہ ٹرمپ عوامی سطح پر یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کے پاس مزید فوجی کارروائی کا اختیار موجود ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی قدم غالبا زیادہ موثر ثابت نہیں ہوگا جبکہ اس کی قیمت بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا میرے خیال میں اب فوجی حملوں کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطا بق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرون ملک بڑھتی ہوئی عدم اطمینان کا سامنا ہے جنگ نے امریکی عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے خاص طور پر مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں ان خدشات کی پرواہ نہیں، ان کے مطابق جیسے ہی یہ جنگ ختم ہوگی حالات اچانک معمول پر آجائیں گے تاہم امریکی شہری اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے، ان کا کہنا ہے کہ ان پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور زندگی گزارنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ ووٹرز نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے خلاف اپنی ناراضگی کا واضح اظہار کر سکیں۔