کراچی(ہیلتھ نیوز) کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں16 نوعمر بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلا ﺅ کے معاملے پرمحتسب سندھ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت کی زیر صدارت ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے پھیلا ﺅسے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں سیکرٹری لیبر سندھ ساجد جمال ابڑو، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، سینئر میڈیکل ایڈوائزر، فوکل پرسن، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور متاثرہ بچوں کے والدین نے شرکت کی۔سماعت کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ مزید 16 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے، جبکہ مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ بھی ہے۔ متاثرہ بچوں کے والدین نے اسپتال انتظامیہ کے عدم تعاون، ادویات کی کمی، علاج کے اخراجات کی ادائیگی میں تاخیر اور انتظامی رویے سے متعلق شکایات پیش کیں۔
صوبائی محتسب نے اسپتال کے عملے کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ضرورت کے مطابق تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے اور سندھ انفیکشیئس ڈیزیز اسپتال سے چھ ماہ کےلئے ماہر ڈاکٹروں کی ڈیپوٹیشن کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے ادویات، ڈائیٹ سپلیمنٹس اور دیگر ضروری سامان کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ بظاہر اسپتال کے مالی معاملات بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاﺅ کی ایک وجہ بنے۔ انہوں نے اسپتال کے مالی آڈٹ کے لئے دو ہفتوں میں معروف آڈٹ کمپنی کے انتخاب، متاثرہ مزدور والدین کی بحالی، انتقال کرجانے والے بچوں کے معاوضے، متاثرہ بچوں کی بحالی، نفسیاتی معاونت، آگاہی مہم کے آغاز اور اسپتال میں فوری ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت جاری کی۔صوبائی محتسب سندھ نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔