رانا ثنا اللہ

کابینہ میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو وہ حکومت کی تبدیلی نہیں ،رانا ثنا اللہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینیٹر راناثنااللہ نے کہا ہے کہ کابینہ میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو وہ حکومت کی تبدیلی نہیں ہے،مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی مقررہ مدت پوری کرے گی، کسی کی رائے پر کوئی تجزیہ نہیں کیا جاسکتا،فیصل واوڈا کی انقلابی جدوجہد جاری ہے، اللہ کرے وہ لے آئیں ،آئی پی پی میں شمولیت کرنیوالوں میں سب سے بڑا نام سردار تنویرالیاس کا ہے انکے جانے سے پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،پی ٹی آئی کے الیکشن بائیکاٹ سے آزاد کشمیر انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، الیکشن بائیکاٹ سے ان لوگوں کے مﺅقف کو تقویت ملتی ہے جو الیکشن نہیں چاہتے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی وی انٹرویوز میں کیا ۔رانا ثنا اللہ نے کہا فیصل واوڈا انقلابی لیڈر ہیں، بعید نہیں کہ وہ انقلاب لانے کیلئے ایسی باتیں کریں، فیصل واوڈا کی انقلابی جدوجہد جاری ہے، اللہ کرے وہ لے آئیں، وزارتوں میں تبدیلی حکومت میں تبدیلی نہیں، وزارتوں میں تبدیلی وزیراعظم کا اختیار ہے، کابینہ میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو وہ حکومت کی تبدیلی نہیں ہے، ایسی باتیں کرنیوالے خود کہتے ہیں کہ ان کا صرف اندازہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگروزیراعظم کسی کی وزارت کی کارکردگی سے خوش نہیں تو تبدیل کرنا ان کا اختیارہے، پاکستان میں جس وجہ سے حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں اس کا کوئی ثبوت پیش کرے تو ہم اسے دیکھیں گے، کسی کی رائے پر ہم ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے، مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی مقررہ مدت پوری کرے گی، کسی کی رائے پر کوئی تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔ان کا کہناتھا کہ اسحاق ڈارکا نام اسکینڈل سے جوڑنا بے بنیاد ہے، جس کیس کا حوالہ دیا جارہا ہے اس میں اسحاق ڈار کے حوالے سے ثبوت دیا جائے، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کیا ہے، مسلم لیگ ن یا حکومت کا کیس پر اثر اندا ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ آئی پی پی میں شمولیت کرنیوالوں میں سب سے بڑا نام سردار تنویرالیاس کا ہے ، تنویر الیاس آزاد کشمیر کی سیاست میں سرگرم تھے، تنویر الیاس کے جانے سے پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

رانا ثنا اللہ کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی کے نقصان کا فائدہ ن لیگ کو ہوسکتا ہے، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے الیکشن بائیکاٹ سے آزاد کشمیر انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، الیکشن بائیکاٹ سے ان لوگوں کے مﺅقف کو تقویت ملتی ہے جو الیکشن نہیں چاہتے ۔ پی ٹی آئی نے اسی مقصد کیلئے بائیکاٹ کیا جو انتہائی نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو اتحادی جماعت کے سربراہ ہیں جواب نہیں دیا ان کا احترام ہے،12سیٹوں والا بیان غلط منسوب کیا گیا، ہم تو 44سیٹیں جیتنے کی کوشش کریں گے۔ آزاد کشمیر انتخابات آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے، آزاد کشمیر انتخابات میں امیدواروں کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے، انتخابات میں ہرحلقے سے حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد ڈبل فیگر میں ہے۔بائیکاٹ کرنے والوں کے پاس انتخابات کیلئے امیدوار ہی نہیں ہیں، مشکلات کتنی ہی کیوں نہ ہوں ، انتخابات میں حصہ لینا چاہیئے ۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو آزاد کشمیر میں امن وامان خراب کرنے والوں کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی حمایت دن بدن کم ہورہی ہے ۔ وزیراعظم کی مذاکرات کی آفر پر بھی پی ٹی آئی نے ڈپلومیٹک جواب دیا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم چیف جسٹس کو کوئی ایڈوائس جاری نہیں کرسکتے وہ کانفرنس کے میزبان تھے، یہ ان کی صوابدید ہے کہ کس بات کو آن ایئر کریں یا کس بات کو نہ کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں