محمد اورنگزیب

صنعتی شعبے کے لئے بجلی کے ٹیرف میں کمی پر کام کررہے ہیں،محمد اورنگزیب

فیصل آباد(کامرس رپورٹر )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی توجہ نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نظام میں اصلاحات، شفافیت اور ٹیکس وصولی کے موثر نظام پر ہے جبکہ صنعتی شعبے کےلئے بجلی کے ٹیرف میں کمی پر کام کررہے ہیں، حکومت ملک کے بڑے چیمبرز آف کامرس میں جا کر تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل سن رہی ہے اور ان کے حل کےلئے بھرپور دلجمعی سے کام کیا جا رہا ہے۔

فیصل آباد میں صنعت کاروں اور کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی تیاری میں تاجروں اور صنعتکاروں کی تجاویز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ آئندہ بجٹ کی تیاری کےلئے مشاورتی عمل گزشتہ سال اکتوبر سے ہی شروع کر دیا گیا تھا اور حکومت پہلی مرتبہ خود کاروباری برادری کے پاس جا کر ان کی آرا اور تجاویز حاصل کر رہی ہے تاکہ پالیسی سازی زمینی حقائق کے مطابق کی جا سکے۔ جبکہ آئندہ بجٹ کے لیے بھی ابھی سے مشاورت کا عمل شروع کیا جائے گا اور ملک بھر کے کاروباری حلقوں سے تجاویز حاصل کی جائیں گی۔محمد اورنگزیب نے تاجروں اور چیمبرز پر زور دیا کہ وہ ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ قومی آمدن میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ کاروبار کرنا نجی شعبے کا کام ہے، جبکہ سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار(ایس ایم ایز)کےلئے فنانسنگ میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کےلئے حکومت برآمد کنندگان کو سبسڈائزڈ فنانسنگ کی سہولت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جب کہ نجی شعبے کو زیادہ قرضوں کی فراہمی بھی حکومت کی اہم ترجیح ہے تاکہ صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ صنعتی شعبے کے لئے بجلی کے ٹیرف میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے اور حکومت اس حوالے سے مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دستاویزی کارپوریٹ سیکٹر پر موجود غیر متناسب ٹیکس بوجھ کو کم کیا جا رہا ہے، جبکہ سپر ٹیکس اور بعض ایڈوانس ٹیکسز میں بھی ریلیف دیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر اور فری لانسرز پاکستان کی برآمدات میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اسی لیے حکومت اس شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے کی بحالی کے لیے ٹرانزیکشن ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے اور یہ ریلیف جائیداد کی فائلوں کے کاروبار کے لیے نہیں بلکہ حقیقی تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے مقصد سے دیا گیا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کےلئے بھی اقدامات کیے گئے ہیں جب کہ حکومت کی اولین ترجیح ٹیکس نظام میں موجود لیکیجز، ٹیکس چوری اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ نئے ٹیکس لگانے کے بجائے انفورسمنٹ اور ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ ٹیکس نوٹس ڈیٹا اور شواہد کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے جب کہ ایک ہی افسر کے پاس تمام اختیارات رکھنے کا نظام بھی تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت، احتساب اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں جدید اور خودکار طریقہ کار متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہو۔محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں مزید ٹیکس لگانے کی گنجائش محدود ہو چکی ہے، اس لئے حکومت کا فوکس موجودہ نظام کی خامیوں کو دور کرنے، ٹیکس نیٹ کو موثر بنانے اور اصلاحات کے ذریعے محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں