میڈیکل سرنجز

کراچی، مارکیٹ میں دستیاب 6 برانڈز کی میڈیکل سرنجز غیر معیاری قرار

کراچی (ہیلتھ نیوز ) ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے مختلف کمپنیوں کے چھ برانڈز کی میڈیکل سرنجز کو غیر معیاری قرار دے دیا، جس سے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماریوں کے پھیلا کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی نے مارکیٹ میں دستیاب مختلف کمپنیوں کی میڈیکل سرنجز کے سیمپلز کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ملک بالخصوص سندھ میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماریوں کے پھیلا کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کراچی، عدنان رضوی نے سرنجز کے آٹو ڈسیبلٹی ٹیسٹ کی باقاعدہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کراچی کی مختلف مارکیٹوں سے حاصل کیے گئے 3 اور 5 ایم ایل (ml) سرنجز کے نمونوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا گیا، اس مانیٹرنگ کے دوران مختلف کمپنیوں کے چھ (6) برانڈز کی سرنجز معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہیں۔ڈائریکٹر عدنان رضوی کا کہنا تھا کہ ان غیر معیاری سرنجز کا دوبارہ استعمال روکنے والا خودکار نظام یعنی آٹو ڈسیبلٹی اور ری یوز پریوینشن فیچر مکمل طور پر ناکام رہا، جس کا مطلب ہے کہ ان سرنجز کو ایک بار استعمال کے بعد دوبارہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو کہ طبی اصولوں کے خلاف اور انتہائی خطرناک ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مذکورہ کمپنیاں یہ غیر معیاری سرنجز تیار کر کے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر فروخت کر رہی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ نے یہ تشویشناک رپورٹ متعلقہ ڈرگ انسپکٹرز اور سیکریٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ کراچی کو فوری کارروائی کے لیے ارسال کر دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرگ انسپکٹرز نے مختلف میڈیکل اسٹورز اور مارکیٹوں سے 30 سے زائد برانڈز کے نمونے حاصل کیے تھے، جن میں سے فی الحال 6 برانڈز غیر معیاری پائے گئے ہیں۔ پورٹ کے بعد اب ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے مختلف میڈیکل اسٹورز اور ہول سیل مارکیٹوں پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارنے اور ان غیر معیاری سرنجز کا اسٹاک ضبط کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں