مصباح الحق

حج پکنک نہیں عبادت ہے‘ وسیم اکرم اور ساتھیوں کا ناقدین کو جواب

لاہور (سپورٹس نیوز) سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، سعید انور، فخر عالم اور دیگر شخصیات نے رواں سال حج کی سعادت حاصل کی، تاہم دورانِ حج ان کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔وسیم اکرم کی رمیِ جمرات کے دوران سوئنگ اسٹائل ویڈیو اور بعد ازاں مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھانے والی ویڈیو خاصی وائرل ہوئیں، جبکہ فخرِ عالم نے اپنے حج کے سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں، بعض صارفین نے اس سفر کو حج کے بجائے پکنک قرار دیا۔

حال ہی میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوایا، حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی، جنہوں نے دو شرعی آپشنز دیے تھے یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا قصر کرائی جائے، یعنی بالوں کا کچھ حصہ ترشوایا جائے، ہم نے قصر کا انتخاب کیا، جو شرعا جائز ہے۔حج یا پکنک کے اعتراض پر انہوں نے کہا کہ حج ایک عبادت ضرور ہے، لیکن اس دوران انسان عبادت کے ساتھ دوستوں کے ساتھ وقت بھی گزارتا ہے، دعائیں کرتا ہے، بات چیت کرتا ہے اور مسکراتا بھی ہے، یہ تمام چیزیں حج کے تجربے کا حصہ ہیں اور ان میں کوئی قباحت نہیں۔

فخرِ عالم نے کہا کہ میری بنائی گئی ویڈیوز کا مقصد نوجوانوں کو حج کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں اس مقدس سفر کے لیے ترغیب دینا تھا نہ کہ تفریح یا نمائش کرنا۔اپنے حج کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وسیم اکرم نے بتایا کہ میں نے کبھی کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ ہمیشہ یہی سوچا تھا کہ جب دل سے آمادگی محسوس ہو گی تو حج کریں گے، چونکہ میرے دوست پہلے سے حج پر جا رہے تھے، اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ میں جلد 60 برس کا ہونے والا ہوں، اس لیے مجھے محسوس ہوا کہ اب حج ادا کرنے کا بہترین وقت ہے، حج کا سفر مشکل لیکن یادگار ہے۔مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے کو روحانی اور خوش گوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوستوں کے ساتھ اس مقدس فریضے کی ادائیگی نے اس سفر کو مزید خاص بنا دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں