فضائی حملے

امریکہ کے ایران میں دوسرے روز بھی فضائی حملے، 90 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی

واشنگٹن، تہران،نیویارک(انٹرنیشنل ڈیسک )امریکا نے مسلسل دوسرے روز بھی ایران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے جن میں جنوبی ایران کے متعدد فوجی اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا، امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے ایران میں 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور فضائی حملوں کا اپنا تازہ سلسلہ مکمل کر لیا ہے جبکہ بحرین اور کویت میں بھی خطرے کے سائرن بجے اور دھماکے ہوئے، ایران میں 14 افراد شہید ہو گئے،ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان حملوں کے جواب میں کویت میں امریکی فوج کے 2 اڈوں اور بحرین میں بھی 2 امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ، اگر امریکہ نے دوبارہ حملے کیے تو ردعمل خطے میں موجود دیگر امریکی اڈوں تک بھی پھیل جائے گا۔

عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران پر نئی لہر میں 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا،جن میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے وسائل، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہیں، بحری صلاحیتیں، اور ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ سینٹ کام کا بیان میں کہنا ہےکہ افواج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کیا ہے، جس کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور بے گناہ شہری ملاحوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

تجارتی جہازوں پر حملے کرکے ایران نے جہاز رانی کی آزادی کو خطر ے میں ڈالا،کارروائی کامقصد آبنائے ہرمز میں تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے، ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کوبتایا ایران کےساتھ جنگ بندی فی الحال موثرنہیں رہی،مزید فوجی کارروائیاں بھی کی جاسکتی ہیں ۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس اور ابو موسی جزیرے سمیت متعدد مقامات حملوں کی زد میں آئے۔ ایرانی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ امریکہ کے حالیہ حملوں سے 14 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق امریکی حملوں کے بعد تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب چند گھنٹوں بعد ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین ہونا تھی۔ا ایران کے شہر سیریک،بندرعباس، چابہار اورکنارک میں زورداردھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،جبکہ بوشہر،ہرمزگان اورجزیرہ ابوموسی میں کئی مقامات پر شدید بمباری کی اطلاعات ملیں ۔گورنر خوزستان کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے شہر اہواز پر حملے میں 3شہری شہید ،متعدد زخمی ہوگئے،امریکا نے جمعرات کی صبح صوبے خوزستان کے مغربی شہر اہواز پر حملہ کیا تھا۔ادھر امریکی حملوں کے چند گھنٹے بعد کویتی فوج نے اعلان کیا کہ ملک کا فضائی دفاع کا نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے ۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کویتی فوج نے کہا کہ اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔بحرین کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اعلان کیا ہے کہ ملک میں خطرے کے سائرن بجا دئیے گئے ہیں۔، شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام کی جانب چلے جائیں۔ دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت میں امریکی فوج کے 2 اڈوں اور بحرین میں بھی 2 امریکی اڈوں پرحملہ کیا، بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی امریکی فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئی ۔

پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو جوابی کارروائی کا دائرہ خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی اڈوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ا یرانی بحریہ کے ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ غیر ملکی فوج ایران کے ساحل پر اترنے کی کوشش کرے گی تو علاقہ حملہ آوروں کے لیے جہنم بن جائے گا۔ایرانی بحریہ کے ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ امریکا نے ایرانی سرزمین پر اترنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اسے عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہا۔حبیب اللہ سیاری نے امریکی صدر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بحریہ تباہ نہیں ہوئی۔ دریں اثنا ایران نے حالیہ امریکی حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو علیحدہ علیحدہ احتجاجی خطوط ارسال کر دئیے ۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے اپنے خطوط میں مقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی حملے کیے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے منشور اور امریکہ کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، امریکی کارروائیاں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کی بھی خلاف ورزی ہیں۔مستقل ایرانی مندوب نے خطوط میں مزید لکھا کہ یہ حملے 16 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی بنیادی خلاف ورزی بھی شمار ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں