واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے حوالے سے کہا ہے کہ میرے خیال میں ایران کے ساتھ ایم اویو ختم ہوچکا ہے، ایران کےساتھ اپناوقت ضائع کرنانہیں چاہتا،اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا ۔
ترکیے کے دار الحکومت انقرہ میں نیٹو چیف جنرل مارک روٹے کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو چیف کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے، نیٹو امریکا کا مشکل ترین پارٹنز ہے، ہم نے ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک کرنے کی بات کی، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ میں نیٹو سے خوش نہیں ہوں کیونکہ انہوں نے گرین لینڈ اور ایران کے معاملے پر ہماری مدد نہیں کی، ہمیں مدد کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں امتحان لے رہا تھا، ہم نیٹو کو 100 فیصد فنڈ دے رہے تھے جبکہ کچھ ممالک کچھ بھی حصہ نہیں ڈال رہے تھے۔ان کا کہا تھا کہ نیٹو کو سب سے زیادہ مالی معاونت امریکا فراہم کرتا ہے، اس لئے اتحادی ممالک کو اپنی ذمہ داریاں مزید موثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانیوں سے ڈیل نہیں کرنا چاہتا، ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو گئی ہے، ایرانیوں کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ اسے استعمال کرتے، میں ایران کےساتھ اپناوقت ضائع کرنانہیں چاہتا۔امریکی صدر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ میرے خیال میں یہ ختم ہو چکی ہے، ان کے خیال میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم ہوگئی ہے، میں اب ان کے ساتھ مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا، ایران کے معاملے میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے جہازوں پر حملے کئے، ایران کے حملوں کے جواب میں امریکی فوج نے بھی کارروائی کی
، ایران کی تمام قیادت کو ختم کر دیا، اب وہاں نئے لوگ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سپین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے، سپین انتہائی خراب شراکت دار ہے، اس کے ساتھ تجارت ختم کر دی اب وہ گڑگڑا رہا ہے کہ ہمارے ساتھ تجارت کریں۔