تہران(انٹرنیشنل نیوز ) ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی چار شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے طے کردہ انتظامات کی خلاف ورزی، مزید حملوں کی مسلسل دھمکیاں، تیل کی فروخت پر پابندیوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا ان اقدامات میں شامل ہیں جنھیں وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ دھونس اور استحصال کا دور ختم ہو چکا، اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہم جھکتے نہیں ہیں۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکا مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جائے گا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا آبنائے ہرمز میں متبادل راستہ بنانے کی امریکی کوششیں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنیں گی۔محسن رضائی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا یہ واضح ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جائے گا۔محسن رضائی نے خطے سے امریکہ کے انخلا پر بھی زور دیا اور ایران کے سابق رہنما کے قتل کے ذمہ داروں کے خلاف جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا۔