حماس

اسرائیل غزہ میں انتظامی خلا پیدا کرنے کی کوشش کررہاہے،حماس کا الزام

غزہ ،نیویارک(انٹرنیشنل نیوز )حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تکنیکی انتظامی کمیٹی کو اختیارات سنبھالنے سے روک کر علاقے میں انتظامی خلا پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس نے غزہ میں اپنی انتظامی باڈی تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام اقتدار کی منتقلی کو آسان بنانے کےلئے کیا گیا تاکہ غزہ کی انتظامیہ کےلئے قومی کمیٹی(این سی اے جی ) کو مکمل اختیارات منتقل کیے جا سکیں، یہ کمیٹی جنوری میں تشکیل دی گئی تھی، تاہم حماس کے مطابق اسرائیل نے اسے غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔

حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ تحریک غزہ جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کےلئے پرعزم ہے، جب تک کہ انتظامی اختیارات مکمل طور پر قومی کمیٹی کے حوالے نہیں کر دئیے جاتے۔حماس نے مزید الزام لگایا کہ اسرائیل امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور غزہ میں انتظامی خلا پیدا کر کے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ اور معمول کی زندگی کی بحالی کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔

حماس نے بین الاقوامی ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباﺅ ڈالیں تاکہ اختیارات کی منتقلی میں رکاوٹیں ڈالنے کا عمل بند کیا جا سکے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے غزہ میں دو دہائیوں سے انتظامی امور سنبھالنے والے ادارے کو حماس کی جانب سے تحلیل کرنے کے فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہم ہر ایسے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں جو جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد میں معاون ثابت ہو اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں بیان کردہ مقاصد کے حصول کو آگے بڑھائے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دو جارک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ بدستور فلسطینی اتھارٹی کی قیادت میں متحدہ فلسطینی طرز حکمرانی کے قیام کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا مقف واضح ہے کہ فلسطینی علاقوں میں ایک متحد اور موثر انتظامی نظام کا قیام خطے میں استحکام اور امن کے فروغ کے لیے اہم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں