ایران

آبنائے ہرمز کو کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، ایران کا دوٹوک اعلان

تہران (انٹرنیشنل نیوز) ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، جیسے ماضی میں جوہری معاملے پر مذاکرات کیے گئے تھے۔ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکی ناکہ بندی ختم ہوئی تو آبنائے ہرمز سے گزرنے کا نظام ایران کے طے کردہ اصولوں کے تحت چلایا جائے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی جغرافیائی حیثیت اس کی بڑی طاقتوں میں شامل ہے اور آبنائے ہرمز ایران کے جائز علاقائی حقوق کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کبھی بھی اس اہم بحری گزرگاہ کو مذاکراتی میز پر نہیں لائے گا۔

ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ امریکی پابندیاں اور ناکہ بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز ایران کے طے کردہ انتظامات اور قواعد کے مطابق آمدورفت کریں گے۔انہوں نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز سے غیر فوجی اور غیر مخالف بحری ٹریفک کو گزرنے کی اجازت ہوگی اور ایران کو اپنے علاقائی پانیوں کے معاملات میں کسی دوسرے ملک کی منظوری کی ضرورت نہیں۔

ایرانی رہنما کے مطابق یہ معاملہ اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔دوسری جانب اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران ایک ابتدائی فریم ورک تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حتمی معاہدہ قریب ہے۔اسماعیل بقائی کے مطابق اگر مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی گئی تو جوہری معاملے سمیت دیگر اہم موضوعات پر آئندہ 60 روز کے دوران مذاکرات کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں