گائے کا گوشت

گائے کا گوشت ذیابیطس کا باعث نہیں بنتا، نئی تحقیق

واشنگٹن (نیوز ڈیسک )امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق کے مطابق گائے کے گوشت کا روزانہ استعمال بلڈ شوگر، انسولین کے افعال یا جسم میں ورم کے خطرے میں اضافے کا باعث نہیں بنتا۔ محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق میں گائے کے گوشت کے استعمال سے میٹابولک صحت پر کوئی نمایاں منفی اثر سامنے نہیں آیا۔اس مقصد کے لئے ماہرین نے ایک کلینیکل ٹرائل کیا جس میں 18 سے 74 سال عمر کے 24 افراد کو شامل کیا گیا۔

یہ تمام افراد زائد وزن یا موٹاپے اور ہائی بلڈ شوگر کا شکار تھے، تاہم دیگر اعتبار سے صحت مند تصور کیے گئے۔ تحقیق کے دوران شرکا کو دو مختلف غذائی منصوبوں پر 28، 28 دن تک عمل کروایا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں انہیں روزانہ دو مرتبہ کھانے کے ساتھ تقریبا 100 گرام گائے یا مرغی کا گوشت دیا گیا، جبکہ اگلے مرحلے میں انہیں مکمل طور پر گوشت سے دور رکھا گیا۔ اس دوران بلڈ شوگر، انسولین حساسیت اور دیگر میٹابولک عوامل کا مسلسل جائزہ لیا گیا۔

محققین نے نتائج میں دیکھا کہ گائے کے گوشت کے استعمال سے نہ تو بلڈ شوگر کی سطح میں کوئی نمایاں تبدیلی آئی اور نہ ہی انسولین کے نظام پر منفی اثرات سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق گائے اور مرغی کے گوشت کے اثرات تقریبا یکساں دیکھے گئے۔تحقیقی ٹیم نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ تحقیق کا دورانیہ نسبتا مختصر تھا، تاہم اتنے عرصے میں بھی غذا کے جسم پر اثرات سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں، اس لیے نتائج کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج معروف طبی جریدے کرنٹ ڈویلپمنٹ اِن نیوٹریشن میں شائع کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو ایسی بیماری ہے جس میں جسم یا تو مناسب مقدار میں انسولین نہیں بناتا یا پھر انسولین کو مثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتا، جس کے باعث خون میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اگر اس بیماری کو قابو میں نہ رکھا جائے تو دل، اعصاب، آنکھوں اور دیگر اعضا کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں