اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے، مہاجر نشستوں کا فیصلہ آزاد کشمیر کے عوام اور مہاجرین کو کرنے دیا جائے، افغانستان سے دہشتگردی کے مسئلے پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے،ایران پر پابندیوں میں نرمی پاکستان اور بلوچستان کیلئے فائدہ مند ہوگی۔
منگل کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی، اسد قیصر کے گھر قانون سازی کیلئے میٹنگ میں شریک ہوا، ہمارے جوانوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، بچے یتیم ہو رہے ہیں، افغانستان سے دہشتگردی کے مسئلے پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے، ہمارے جوان ان کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں جن کی برسوں میزبانی کی، ایران پر پابندیوں میں نرمی پاکستان اور بلوچستان کیلئے فائدہ مند ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ دہشتگردی کے معاملے پر مذاکرات کیے، قطر اور ترکیہ کے ذریعے بھی مذاکرات ہوئے لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ اسد قیصر کے گھر جنرل فیض کے بھیجے لوگوں کے ساتھ مذاکرات ہوتے تھے۔
میں خود 2 بار افغانستان گیا،میرے ساتھ اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔انہوں نے کہا کہ افغان قیادت کےساتھ متعدد ملاقاتیں نتیجہ خیزثابت ہوئیں، ہم سب کرنے کو تیار تھے لیکن افغان قیادت ضمانت دینے کو تیار نہیں تھی، افغانستان نے ہم سے 10 ارب روپے مانگا جو ہم دینے کو تیار بھی تھے، افغان قیادت ہمیں تحریری طور پرضمانت نہیں دیتی تھی۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری سرزمین کے سواپوری دنیا میں امن قائم ہو رہا ہے، بلوچستان میں قیام امن کیلئے ہم سب کومل کر کام کرنا ہو گا، بلوچستان میں اگر آج سڑکیں محفوظ نہیں تو یہ بھی اس ایوان کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا منبع افغانستان ہے، دہشتگردوں سے بات کرنے کا کہا جاتا ہے، مگر کوئی ضمانت تو دے، امریکا سمیت سب ہمیں استعمال کر کے چلے گئے اور خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں ایک دوسرے پر بے بنیاد الزام تراشی نہیں ہونی چاہئے، ایوان کا تقدس کسی صورت پامال نہیں ہونا چاہئے، پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی، ایران ، امریکا معاہدے سے پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا، پاکستان نے سفارتی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، پاکستان کا نام اونچا ہونا سب پاکستانیوں کیلئے باعث فخر ہے، مودی بھی صدر ٹرمپ کو مبارکباد دے رہا تھا، مودی میں ہمت نہیں کہ پاکستان کا شکریہ ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحات بڑی مدت کے بعد آتے ہیں، بلوچستان میں امن کیلئے سب کو ملکر کام کرنا ہے، پاکستان نے 40 سال افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغانستان کے ساتھ دہشتگردی کے معاملے پر مذاکرات کیے، قطر اور ترکیہ کے ذریعے بھی مذاکرات ہوئے لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ان کا کہنا تھا کہ آج غیر ملکی سرمایہ سے چلنے والی تنظیم مہاجرین کی نشستوں پر ہمیں بلیک میل کر رہی ہے ، کشمیر الیکشن ہونے دیں پھر فیصلہ کر لیں مہاجرین کی سیٹوں کا کیا کرنا ہے۔