کراچی(نیوز ڈیسک )سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت ملک چل پا رہا ہے اور نہ چل سکتا ہے، وزیر اعظم گھر چلے جائیں، رہیں یا کابینہ بدل دیں، مگر ملک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،کراچی کی حالت زار کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، جو لوگ 18 سال میں کچھ نہ کر سکے، ان سے آگے بھی کوئی امید نہیں ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کو مسئلے کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی نظام ہوگا تو عوام کو تعلیم، سڑکوں، صحت کی بہتر سہولتیں مل سکیں گی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومتیں نہیں چاہتیں کہ مضبوط بلدیاتی نظام ہو۔ عوام کی کسی کو فکر نہیں، حکمران اپنے مفاد کیلئے قانون اور پالیسیاں بناتے ہیں۔ چھوٹے ا نتظامی یونٹس ہوں گے، تو ملک کا نظام بہتر ہوگا۔ ملک کے کئی حصوں سے صوبوں کے قیام کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا کہ ملک و قوم کا مفاد کس میں ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بہتری کے لیے ملک میں اصلاحات لانا ہوں گی، قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہو گی،لوگوں کی رائے کا احترام کرنا ہوگا اور الیکشن کی چوری بند کرنا ہوگی۔ جب تک یہ سب نہیں ہوگا، عوام نظام کو قبول نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں امیدوار آج گھر سے نکلنے کے قابل نہیں ہیں۔ ساری جماعتیں عوام کا اعتماد کھو چکی ہیں۔ ایسا الیکشن جس میں عوامی نمائندے حصہ نہ لیں، وہ حکومت عوام کو قبول نہیں۔ اس سے کشمیر کے معاملے کو بھی نقصان ہوگا۔سابق وزیراعظم نے لاہور میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ ہونے والے واقعے کو کرمنل کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور اس کا فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں کہ وہ اس واقعے کو کیسے ڈیل کرتا ہے۔
کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی تو قانون حرکت میں آئے اور جوڈیشل نظام انصاف فراہم کرے۔ شاہد خاقان عباسی نے کراچی کی بدترین حالت پر 18 سال سے صوبے پر حکمراں جماعت پیپلز پارٹی پر تنقید کی اور کہا کہ جو لوگ 18 سال میں کچھ نہ کر سکے، ان سے آگے بھی کوئی امید نہیں ہے۔شاہد خاقان نے کہا کہ جس شہرمیں پانی، بجلی، انفراسٹرکچر، پولیس نظام نہ ہو اس کو پیرس کا نام دیا جاتا ہے۔ پیرس دور کراچی کو کراچی ہی بنا دیں بہت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹینکروں میں پانی آ سکتا ہے تو لائن میں کیوں نہیں آ سکتا۔ ہائیڈرنٹس کون چلا رہا ہے، یہاں تو اشرافیہ کا قبضہ ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جس کو ملک کا بہترین شہر ہونا چاہیے تھا، وہ بدترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ کراچی کا حل وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔