پشاور(نیوز ڈیسک)وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضم اضلاع میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کےلئے متعلقہ انتظامیہ کو تین ماہ کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اس مدت کے دوران عوام کو خدمات کی فراہمی میں واضح اور عملی تبدیلی نظر آنی چاہئے، میٹنگز میٹنگز کھیلنا بندکریں، د فاتر میں بیٹھنے کے بجائے ہر وزیر ہر مہینے 7 اضلاع میں جائیں، وہاں بیٹھ کر عوام کے مسائل حل کریں، تین مہینے بعد آپ سب کی کارکردگی کو دیکھ کر جزاسزا کا فیصلہ ہوگا۔
وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضم اضلاع میں امن و امان، گورننس اور ترقیاتی پروگراموں سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوامی خدمات کی فراہمی، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں انہوں نے شمالی وزیرستان میں ایک ہفتے کے اندر ترقیاتی سرگرمیاں بحال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں پر کام کی بحالی کےلئے درکار افسران اور اہلکار فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔
وزیراعلی نے ضم اضلاع میں آﺅ ٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کےلئے خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی، رواں مالی سال کے بجٹ میں اس مقصد کےلئے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سکولوں میں اساتذہ کی کمی بھی ہنگامی بنیادوں پر پوری کی جائے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ضم اضلاع فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں، اسی لیے جدید اسلحہ اور جدید آلات کی فراہمی میں ان اضلاع کو پہلی ترجیح دی جا رہی ہے۔اجلاس میں صحت کے شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلی نے ہدایت کی کہ ضم اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق مزید ڈاکٹرز بھرتی کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے وزرا اور مشیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بطور وزیراعلی آپ کو اختیار دیتاہوں کہ کوئی بھی کرپٹ افسر ہو، چاہے وہ جس کا بھی چہیتا ہو، اس کو فورا گھر بھیج دیں، آپ کی تمام پالیسیاں صرف عوامی امنگوں پر ہونی چاہیے، آپ کی کارکردگی سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر منحصر نہیں ہے ، کارکردگی صرف اس پر منحصر ہے کہ عوام مطمئن ہوں، عوام مطمئن ہو گی تو ہم مطمئن ہوں گے، اگر عوام مطمئن نہیں ہوتے تو آپ جتنی مرضی اچھی پریزینٹیشن بنا لیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، آپ کے تمام فیصلے عوامی مفاد میں ہونے چاہئیں اور ریلیف درازے پر ملنا چاہیے، تمام وزرا کو ہدایت ہے کہ آپ نے مہینے میں کم سے کم 7 اضلاع کے دورے کرنے ہیں،
اس کے بعد میٹنگز میٹنگز کھیلنا ، آفسز کے اندر رہنا چھوڑ دیں، دورے کریں اور ہر ضلع میں جا کر اپنے سٹاف اور عوام کو بلا کر ان کے مسائل سنیں، فوری ان کے مسائل حل کرنا شروع کریں، اگلے ہفتے تک آپ کی سٹریٹیجی سی ایم آفس اور سی ایس آفس میں جمع ہونی چاہیے، ہر ڈپارٹمنٹ کا اپنا کمپلین سیل ہونا چاہیے، اور اسے سی ایم کمپلین سیل سے منسلک کریں، جس کو میں روزانہ کی بنیاد پر دیکھا کروں گاکہ عوام کی شکایات کتنی ہیں اور آپ نے ان کے حل کیلئے کیا کوششیں کیں،
عوام کتنے مطمئن ہیں، تمام ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کے جتنے بھی دروازے ہیں وہ بند ہونے چاہئیں، بڑی کرپشن پر تو ویسے بھی معافی نہیں ہے، چھوٹی کرپشن جہاں بھی ہو رہی ہےاس کے دروازے بند ہونے چاہئیں، عوام کی طرف سے کسی بھی موقع پر کوئی شکایت نہیں آنی چاہیے، اگر شکایت آئی اور اس کا ازالہ نہیں ہوگا تو پھر ایکشن ہوگا، تین مہینے کے بعد ہم پھر ملیں گے اور جومیں نے آپ کو ہدایات دیں ہیں ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، اس کے مطابق ہر بندے کو سزا اور جزا دی جائےگی۔