اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سے اپنی وابستگی کی دوبارہ توثیق کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ علاقائی تنظیم سکیورٹی تعاون، معاشی روابط اور سیاسی مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے۔گوادر پرو کے مطابق ایس سی او کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایس سی او چارٹر اور شنگھائی اسپرٹنکے اصولوں کی حمایت جاری رکھے گا، جن میں باہمی اعتماد، مساوات، تنوع کا احترام اور مشترکہ ترقی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایس سی او 2001 میں شنگھائی فائیو کے نظام سے ارتقاء کے بعد قائم کی گئی تھی۔ پاکستان 2017 میں مبصر حیثیت کے بعد مکمل رکن بنا۔اسحق ڈار نے کہا کہ چین نے ایس سی او کی ترقی اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو تعاون کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جو ایس سی او خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے روابط کو وسعت دے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور وسیع یوریشیائی خطے کے درمیان ایک پل (گیٹ وے) کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق پاکستان 27ـ2026 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ اور کونسل آف فارن منسٹرز کی باری کے لحاظ سے صدارت سنبھالے گا اور 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ڈار نے کہا کہ اسلام آباد ایک ایسے ایجنڈے پر عمل کریگا جس میں معاشی تعاون، علاقائی روابط اور عوامی سطح پر روابط (peopleـtoـpeople exchanges) کو فروغ دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اکتوبر 2024 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی بھی کی تھی۔
اس کے علاوہ پاکستان 26ـ2025 کیلئے ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے (RATS) کی کونسل کی صدارت بھی کر رہا ہے۔ اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف ایس سی او کے کردار کو اہم سمجھتا ہے اور کہا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور اجتماعی اقدامات علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی، توانائی سلامتی، تجارت میں آسانی، غذائی تحفظ، موسمیاتی لچک، صحت عامہ، تعلیم اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں ایس سی او کے اندر تعاون کی حمایت کرے گا۔
ڈار نے غربت کے خاتمے کے حوالے سے ایس سی او تعاون میں پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ اسلام آباد رکن ممالک کے ساتھ مل کر معیارِ زندگی بہتر بنانے اور معاشی مواقع بڑھانے کے لیے کام کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے فریم ورک کے تحت مسلسل تعاون تنظیم کے امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں کردار کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭