لاہور( شوبز ڈیسک)شہنشاہ قوالی،غزل گائیک اور موسیقار استاد نصرت فتح علی خان کی 29ویں برسی 16 اگست کو منائی جائے گی۔نصرت فتح علی خان 13اکتوبر 1948کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام فتح خان تھا وہ خود بھی نامور گلوکار اور قوال تھے۔
انہوںنے قوال کی حیثیت سے 125آڈیو البم ریکارڈ کرائے جو ایک منفرد ریکارڈ ہے اور ا سے توڑنے والا شاید دوردورتک کوئی نہیں، ان کی شہرت نے انہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی، دم مست قلندر مست ، علی مولا علی ، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، میرا پیاگھر آیا، اللہ ہو اللہ ہو اور کینا سوہنا تینوں رب نے بنایا، جیسے البم ان کے کریڈٹ پر ہیں، ان کے نام کے ساتھ کئی یادگار قوالیاں اور گیت بھی جڑے ہیں۔نصرت فتح علی خان کی ایک حمد وہی خدا ہے کو بھی بہت پذیرائی ملی جبکہ ایک ملی نغمے میری پہچان پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لئے گایا گیا گیت جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسے ہیں۔
نصرت فتح علی خان کو بھارت میں بھی بے انتہا مقبولیت اور پذیرائی ملی، جہاں انہوں نے جاوید اختر، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے اور اے آر رحمان جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔یورپ میں ان کی شخصیت اور فن پر تحقیق کی گئی اور کئی کتابیں لکھی گئیں، 1992 میں جاپان میں شہنشاہ قوالی کے نام سے ایک کتاب شائع کی گئی اور انہیں گانے والے بدھا کا لقب دیا گیا ۔
نصرت فتح علی خان نے دنیا بھر میں اپنی آواز کا جادو جگایا ،پاکستان کے ساتھ ساتھ کئی حکومتوں اور اقوام متحدہ نے ان کی شاندار فنی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں متعدد سرکاری اعزازات سے نوازا۔ٹائم میگزین نے 2006میں ایشین ہیروز کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل کیا، بطور قوال ا اس عظیم فنکار کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔شہنشاہ قوالی نصرت فتح علی خان جگرا ور گردوں کے عارضہ سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے باعث صرف 49سال کی عمر میں 16اگست 1997کو اپنے کروڑوں مداحوں کو اداس کر گئے تھے۔