لاہور(شوبز ڈیسک)ماضی کے شہرہ آفاق اسٹیج ڈرامہ ”جنم جنم کی میلی چادر” کو دوبارہ پیش کرنے والے نامور اداکار وہدایتکار نسیم وکی نے کہا ہے کہ کسی ایسے شاہکار کو دوبارہ بنانا جو اپنے دور میں بے مثال مقبولیت حاصل کر چکا ہو انتہائی مشکل اور ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے،”جنم جنم کی میلی چادر”نے ماضی میں اپنی دھاک بٹھائی اور اسے سپر ہٹ پراجیکٹ کا درجہ حاصل رہا اسی وجہ سے کوئی بھی اسے دوبارہ بنانے کا خطرہ مول نہیں لے رہا تھا ۔
ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ سوچ بچار کے بعد یہ طے کیا کہ کیوں نہ اس پراجیکٹ کو عظیم فنکار افضال احمد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پیش کیا جائے چنانچہ ہم نے یہ کوشش کی ہے، اب ناظرین ہی فیصلہ کریں گے کہ ہم اس میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں۔نسیم وکی نے کہا کہ ہماری کوشش رہی ہے کہ اصل ڈرامے کی روح اور اس کی مقبولیت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے اس مقبول شاہکار ڈرامے سے وابستہ یادیں آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہیں اور یہی اس پراجیکٹ کو دوبارہ پیش کرنے کی سب سے بڑی وجہ بنی۔