پنگریو (کامرس ڈیسک)ملک میں کپاس کے نئے سیزن کے آغاز سے قبل ہی ٹیکسوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور صنعتی بحران نے ٹیکسٹائل سیکٹر خصوصا اسپننگ انڈسٹری کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ سے پنجاب کپاس کی ترسیل پر عائد انفراسٹرکچر سیس واپس نہ لیا گیا تو اس کے براہِ راست اثرات کپاس کی قیمتوں، مارکیٹ کے استحکام اور برآمدی شعبے پر مرتب ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق سندھ میں کپاس کا نیا سیزن آئندہ چند روز میں شروع ہونے کا امکان ہے اور اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یکم جون کے بعد سندھ بھر میں 10 سے 15 جننگ فیکٹریاں فعال ہو جائیں گی۔ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد سندھ سے پنجاب کپاس لے جانے والے ٹرالوں کے کرایوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 60 سے 65 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ پنجاب حکومت کی جانب سے سندھ سے پنجاب آنے والی مختلف مصنوعات پر 0.9 فیصد انفراسٹرکچر سیس نافذ کیے جانے کے باعث کپاس کی بین الصوبائی تجارت مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔تجارتی حلقوں نے کہا کہ موجودہ نرخوں کے مطابق کپاس سے بھرے ایک ٹرالے پر تقریبا ایک لاکھ 30 ہزار سے ایک لاکھ 50 ہزار روپے تک اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے اسپننگ ملوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
معاشی تجزیہ کاروں نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کپاس جیسے اسٹریٹجک زرعی خام مال کو انفراسٹرکچر سیس سے استثنی دیا جائے تاکہ کسان، جنرز اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ریلیف مل سکے۔
٭٭٭٭٭٭