قومی اسمبلی

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر اور (کارروائی، قواعد و ضوابط) بل بھاری اکثریت سے منظور

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر اورسپریم کورٹ (کارروائی، قواعد و ضوابط) بل بھاری اکثریت سے منظور کرلئے

جبکہ قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات سے متعلق بل پربدھ کو بھی جاری رہا جس دور ان حزب اختلاف اور حکومتی اراکین نے بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم صاحب! آگر آئین توڑا گیا تو آپ کو کیس فائل کرنا چاہیے ،جب ہم نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیا تو اسی وقت غیرجمہوری قوتوں نے ایک ہائبرڈ جنگ شروع کیا تھا، ہائبرڈ جنگ جمہوریت، سیاسی اتفاق رائے، میثاق جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے خلاف خلاف تھی، ایک کرکٹر کو ہماری اسٹیبلشمنٹ سیاست میں لے کر آئی ،

ہمارے اداروں میں کچھ آئن سٹائن بیٹھتے ہیں اور ملک کے فیصلے کرتے ہیں، اسٹریٹجک اثاثے بناتے ہیں اور پھر آخر میں یہ ہمارے گلے پڑ جاتے ہیں،پارلیمان بالادست اور آئین کا خالق ہے، سوموٹو نوٹس کے حوالہ سے پارلیمان کی حالیہ قانون سازی بہت پہلے ہو جانی چاہئے تھی، اس قانون کے تحت سپریم کورٹ سے ہی مزید دو سینئر جج سوموٹو نوٹس لینے کیلئے شامل کئے جا رہے ہیں،

یہ تاثر درست نہیں کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کم ہو رہے ہیں، دو منتخب وزراء اعظم کو نااہل قرار دیا گیا، منتخب وزیراعظم کو سسلین مافیا کہا گیا، وہ اس پر کہاں اپیل کرتے، ہمیں اس قانون سازی پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جبکہ اجلاس کے دور ان چند آزاد اراکین کی جانب سے عدلیہ پر قدغن قرار دیا گیا ۔ بدھ کووزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی اصلاحات کے حوالے سے کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جبکیہ کمیٹی کی رپورٹ چئیرمین کمیٹی محمود بشیر ورک نے پیش کی۔بعد ازاں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جس کے بعد بل پر بحث آغاز ہوا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ جو قانون سازی ہورہی ہے اس کو ہر ایک کی حمایت حاصل ہے،معروف وکیل حامد خان نے برملا اس بل کی حمایت کی ہے اور کہا کہ یہ بہت پہلے آنا چاہئے تھا،عدلیہ بحالی کی تحریک کے وقت پی پی کی حکومت تھی،حکومت کی اپوزیشن اور وکلا سے بات چیت ہوئی،اس میں عدلیہ بھی تھی اس میں یہی قانون سازی کرنے کی کوشش کی گئی بار اس کے حق میں تھی لیکن اس میں کامیابی نہیں ہوسکی،

سوموٹو اختیار میں دو مزید جج شامل کئے جارہے ہیں،باہر سے کوئی پارلیمان کے ارکان اس میں شامل نہیں کئے جارہے، سپریم کورٹ سے ایک جج سے تعداد بڑھا کر تین کئے جارہے ہیں،اس کی وضاحت کی ضرورت ہے،کچھ لوگ اس کے حوالے سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہم سپریم کورٹ کے اختیارات کم کررہے ہیں،یہ ایوان قانون سازی کا اپنا حق استعمال کررہا ہے،جو اس کا آئینی حق ہے،ہم اس سارے عمل کو شفاف بنارہے ہیں،آج جو ابہام فیصلے کے حوالے سے پیدا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کا ازخود کیس کا فیصلہ چار تین کا تھا یا تین دو،آج کی سماعت میں بھی یہ بات اٹھائی گئی۔

اس ماحول میں اگر آئینی طور پر بااختیار ایوان سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے ، یہ ایوان سپریم ہے اور آئین کا خالق ہے ، دوسرے تمام ادارے اس کی ایک قسم کی توسیع ہیں۔یوسف رضا گیلانی کو جس طرح نااہل کیا گیا کیا اس قانون پر نظر ثانی نہیں کی جانی چاہئے؟ آرٹیکل 209 پر بھی نظر ثانی ہونی چاہئے، ایک وزیر اعظم کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ، نواز شریف کے لئے سسلین مافیا کا نام دیا گیا، کیا نواز شریف کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپیل دائر کر سکتا، تمام ماتحت عدالتوں کو شامل کرکے نواز شریف کو یہ سزا سنائی گئی،

کیا یہ انصاف ہے کہ اس ایوان کے دو وزراء اعظم کو نااہل کیا گیا، ہمیں کون لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ ہم اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں، ہمیں آئین، قانون اور عوام کا مینڈیٹ یہ حق دیتا ہے، کسی اور ادارے کے پاس پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ نہیں صرف اس ایوان کے ارکان کے پاس یہ مینڈیٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سے 50 سال پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، آج بھی یہ بات درست اور سچ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ پاکستان کے عوام ہیں اور پاکستانی عوام کی خواہشات کا مرکز یہ ایوان ہے، ہمیں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے قانون سازی کے حوالہ سے تمام لوازمات پورے کئے ہیں، ہم جو قوانین بناتے ہیں ان کی پڑتال کرنے کا حق عدلیہ کا ہے، ان کے فیصلے قانون کا حق بن سکتے ہیں، قانون و آئین ہمیں جو حق دیتا ہے اس کو ہمیں استعمال کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ قانون سازی اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کر رہے ہیں، ہم یہ اختیار عدلیہ میں ہی دو ججوں کو دے رہے ہیں، ہم اپیل کا حق دے رہے ہیں، ہمیں جمہوریت، آئین اور قانون کا درس دیا جاتا ہے تو اس ادارے کے رولز میں بھی جمہوریت کے اثرات ہونے چاہئیں، اس قانون سازی میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں ہے، یہ قانون بہت پہلے منظور ہو جانا چاہئے تھا، ماضی میں اس ایوان کے منتخب وزراء اعظم کے ساتھ جو ہوا اس پر بھی قانون سازی ہونی چاہئے، ہر ادارے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی حدود کا تحفظ کرے۔

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڈ نے کہا کہ گزشتہ روز اس ایوان میں ایک بل پیش کیا گیا اور ایوان کا خیال تھا کہ یہ بل عوام دوست ہے جس سے پاکستان کے لاکھوں، کروڑوں عوام کو سپریم کورٹ میں قانونی کارروائی کے حوالے سے کچھ حقوق حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کی بنیاد کا مطالبہ بارکونسلز کا مطالبہ بھی ہے اور اسی لیے بارز کے عہدیداران اور ارکان بلاامتیاز اس بل کی حمایت کی، بل کمیٹی کو سونپ دیا گیا تھا۔

وزیرقانون نے کہا کہ کمیٹی نے اس بل پر سیر حاصل بحث کی اور اس کے بعد بل کو واضح کردیا اور کچھ ترامیم تجویز کی گئیں اور اس دوران قائمہ کمیٹی قانون اور انصاف نے کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جبکہ اعظم نذیر تارڈ نے بل کے حوالے سے قرارداد کی منظوری دی گئی۔

جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی اس ایوان کا حق ہے، قانون سازی سے کوئی عدالت یا ادارہ روک نہیں سکتا تاہم یہ بل گزشتہ رات کو پیش کیا گیا پھر کمیٹی میں گیا اور صبح ساڑھے 9 بجے کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے اس کی منظوری دی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس بل کو ڈیڑھ بجے قومی اسمبلی سے منظور کروایا جارہا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی جلدی کی ضرورت کیا تھی، کیا اس پر مزید لوگوں، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جاتی، اٹارنی جنرل، سابق چیف جسٹسز سے بھی مشاورت کی جاتی تو بہتر نتیجہ نکل آتا۔

انہوںنے کہاکہ اس سے بھی شدید مسائل اس وقت موجود ہیں، لوگ مفت آٹا حاصل کرنے کے لیے شہید ہو رہے ہیں، ملک میں صورت حال یہ ہے کہ اس وقت رمضان المبارک میں افطاری کے لیے کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ سیلاب زدہ لوگوں کو اب تک مناسب ریلیف نہیں ملا، کم از کم خیبرپختونخوا میں میرے علاقے میں لوگوں کو ریلیف صحیح طرح نہیں ملا لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔

انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کو پاکستان کے اہم مسائل پر بھی گفتگو کرنے کے لیے ہمیں ہدایات دینی چاہیے تھی تاہم ایک مسئلے پر اور جن لوگوں سے آپ نے مشاورت کی ہے، ان کے لیے دوسرا بل لے کر آئے ہیں اور لوگ کہتیہیں رشوت کے طور پر ان کو دیا گیا ہے، یہ دوسرا بل وکلا کو رشوت کے طور پر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں یہ باتیں سنی ہیں، ہمیں اپنے اداروں کو مستحکم کرنا چاہیے، اداروں کا استحکام ہم سب کے لیے بہتر ہے، سپریم کورٹ یا عدلیہ اپنا قانون تقاضے کے تحت اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کرتا، یہ حقیقت ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔

عدلیہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مراعات اور تنخواہوں کے لحاظ سے دنیا میں ہمارا نمبر پانچواں ہے اور کارکردگی کے لحاظ سے 128 نمبر پر ہے، اس پر ہمیں سوچنا چاہیے۔جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ ہم چیف جسٹس کو مقید کریں گے لیکن کل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب آرہے ہیں، اس کا کیا کریں گے، اس کے ہاتھ پاؤں بھی باندھیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن اسمبلی احمد حسین دیہڑ نے بل پر ایوان، وزیراعظم، اسپیکر اور وزیرقانون کو مبارک باد دی اور کہا کہ اس سے عوام کو حق ملے گا اور یہ وکلا کا دیرینہ مطالبہ تھا اور اس سے انصاف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ اختیارات عدلیہ کو دیے گئے ہیں، عدلیہ سے لے کر کسی اور کو نہیں دئیے گئے، اس میں بینچ اور وکلا کی عزت ہے، سینئر تین جج بیٹھ کر از خود نوٹس اور بینچ کی تشکیل پر فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں انصاف کے قریب نتائج ملیں گے۔

انہوںنے کہاکہ جو کہتے ہیں قانون غلط نہیں ہونا چاہیے، قانون پر عمل ہونا چاہیے، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس قانون کوبنانے والا ذوالفقار علی بھٹو کو انہوں نے سزائے موت دی، آج یہ جواب دیں، یہ قانون کی تشریح کیسے کریں گے، تین دفعہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کو سزا دے کر ملک سے باہر بھیجا تو یہ کیا انصاف دیں گے۔جویریہ ظفر آہیر نے کہاکہ ہم آئین کی بالادستی میں ناکام رہے ہیں، ہم نے وقت پر صحیح فیصلے نہیں کیے، گمان ہوتا ہے کہ عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جویریہ ظفر آہیر نے کہاکہ ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے جس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو، اس بل کی ٹائمنگ غلط ہے مگر میں اس بل کی حمایت کرتی ہوں۔رکن اسمبلی صالح محمد نے کہا کہ بل پر پہلے بحث ہوتی تاکہ ترامیم کا موقع مل جاتا، حیران ہوں کہ تراویح کے دوران یہاں اجلاس چل رہا تھا پتا نہیں سحری کے وقت کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا اور وزیرقانون ایک دم بل پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھی اصلاحات کے حق میں ہیں، ہم کہتے ہیں عدلیہ میں اصلاحات ہوں لیکن عدلیہ پر ڈاکا ڈالنے کے حق میں نہیں ہیں، بل کے مناسب وقت دینا چاہیے تھا۔انہوںنے کہاکہ جو قانون سازی ہو رہی ہے یہ عدلیہ پر قدغن لگانے کے مترادف ہے، یہ اصلاحات ذاتی بنیاد پر ہیں۔قائد حزب اختلاف راجا ریاض نے کہا کہ میں ایوان اور وزیرقانون کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بل قانون کی حکمرانی کے لیے ہے اور اس سے ون مین شو ختم ہوگا اور تین سینئر جج بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی متفقہ طور پر یہ بل لایا، جو پورے ملک کے وکلا کی ترجمانی کر رہا ہے، جو صحیح بات ہے وہ ایک گھنٹے اور ایک منٹ میں منظور کرلی جائے تو بہتر ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ ایک درست فیصلہ ہے اور اس سے عدلیہ بھی مضبوط ہوگی اور غریب کو انصاف ملے گا اور عدلیہ کے ون مین شو پر نظر ثانی ہوگی۔وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت بہت مسائل کا سامنا کر رہا ہے، پاکستان میں ہم نے کئی بحران دیکھے اور اس سے نکل آئے، جمہوری اور آئینی بحران دیکھا، آمریت دیکھی مگر ان آمروں کا مقابلہ کرکے جمہوریت قائم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کے عوام ایک ساتھ تاریخی معاشی بحران، مہنگائی، تاریخی بے روزگاری اور غربت کا سامنا کر رہے ہیں، کچھ ہمارے اپنے فیصلوں کی وجہ سے اور کچھ اس لیے ایک ایسا نااہل اور نالائق وزیراعظم کو ہم پر مسلط کیا گیا تھا جس نے اپنے ہاتھوں سے معیشت کا گلہ گھونٹا اور پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیل دیا۔انہوںنے کہاکہ آج بھی پنجاب میں راجن پور، بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے عوام اس تاریخی قدرتی آفت کی وجہ سے پیدا مسائل کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ہماری معیشت کے مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا کردیا گیا ہے، دہشت گردوں نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے، اسی نالائق وزیراعظم نے پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جب ہم نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیا تو اسی وقت غیرجمہوری قوتوں نے ایک ہائبرڈ جنگ شروع کیا تھا، ہائبرڈ جنگ جمہوریت، سیاسی اتفاق رائے، میثاق جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے خلاف خلاف تھی۔

انہوںنے کہاکہ یہ حملہ ہر طرف سے ہو رہا تھا، میڈیا کے ذریعے تھا، ہر سیاسی رہنما کی کردار کشی کی گئی، ہمارے سامنے جو بحران پیدا ہوا ہے، اس کا ماضی ہے، 1996 میں جس طریقے سے جنرل (ر) حمید گل اس سلیکٹڈ کو انگلی پکڑ کر سیاست میں لے کر آئے وہ کیوں لے کر آئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جو کردار جنرل پاشا، جنرل ظہیرالاسلام اور جنرل فیض حمید کا تھا وہ آپ کے سامنے ہیں، عوام کے سامنے ہے اور تاریخ کا حصہ ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ بھی سیاسی اتفاق رائے کے خلاف، 18 ویں ترمیم کے خلاف، جمہوریت کے خلاف ایک گٹھ جوڑ تھا، جو اس ہائبرڈ جنگ میں شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کچھ اتحادی بھول جاتے ہیں کہ ایک اور چیف جسٹس بھی اس میں شامل تھا، جسٹس افتخار چوہدری نے اس روایت کی بنیاد ڈالی، سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی آمریت افتخار چوہدری نے قائم کی اور وہ بھی اس ہائبرڈ جنگ میں شامل تھا۔

انہوںنے کہاکہ پاشا آیا، ظہیر آیا سب چلے گئے لیکن عمران خان نیازی بدستور موجود ہے، اس کرکٹر کو ہماری اسٹیبلشمنٹ سیاست میں لے کر آئی اور 30 پاکستان کے ادارے اس جرم میں شامل تھے کہ وہ ایک فریکنسٹائن بنا رہے تھے، یہ ہر وقت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اداروں میں کچھ آئن سٹائن بیٹھتے ہیں اور اس ملک کے فیصلے کرتے ہیں، اسٹریٹجک اثاثے بناتے ہیں اور پھر آخر میں یہ ہمارے گلے پڑ جاتے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے کہاکہ چند روز پہلے مشترکہ اجلاس میں ہم نے پھر وہ ماحول دیکھا جو سال سے نہیں دیکھا تھا،پھر اس ایوان میں گالم گلوچ ہوئی، بدتمیزی کا وہ ماحول بنا جو چار سال چلتا رہا،یہ ترمیم بہت مناسب ہے، تاہم تین کے بجائے سات جج ہونے چاہئیں۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ کچھ عرصہ میں تین ججز کے فیصلوں سے ہی مشکلات ہوئیں۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان کے عوام کے پیسے جو لوٹتے ہیں انہیں حکم امتناع مل جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بطور چیئرمین پی اے سی جن کے خلاف بھی کارروائی کی کوشش کی انہیں سٹے آرڈر مل گیا،یہاں دو مختلف پاکستان نظر آتے ہیں، غریب کیلئے اور جبکہ طاقتور کیلئے مختلف ہے ۔ نور عالم خان نے کہا کہ عمران کو اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اب مداخلت ختم ہو گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پہلے ہمیں یہاں اجلاس میں بلانے کیلئے فون آتے تھے،اب اگر کوئی کرنل، بریگیڈئیر یا جنرل کا فون نہیں آتا تو آپ کو مسئلہ ہے؟۔

وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا کہ یہ بل فرد واحد کے اختیارات کو سینئر ججوں میں تقسیم کرنے پر ہے، عدالتوں کے اندر ججوں کی جو اختلافی آواز آرہی ہے وہ سب کے سامنے ہے اور یہ پارلیمان کا حق ہے جو وہ استعمال کر رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا کیس تاخیر کا شکار کرکے ان کا عدالتی قتل کیا گیا، ضیائ الحق نے عدلیہ کے سارے اختیارات ایک فرد واحد کو دئیے۔وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے کہاکہ قانون سازی ہمارا حق ہے ،کسی جنرل یا جج کا نہیں،جو اپنی حدود پار کرتے انکو روکنے کیلئے قانون سازی کا حق رکھتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ رات کی تاریکیوں میں عروج بھی ہوتا ہے، نبی کریم ۖکو رات کی تاریکی میں معراج ہوا۔وجیہہ قمر نے کہاکہ اس بل پر پہلے بہت تحفظات تھے مگر جب پڑھا تو تمام تحفظات دور ہو گئے،یہ بل اس پارلیمنٹ کو بھی مضبوط کرے گا اور عدلیہ کو بھی،اس بل کو بہت پہلے لایا جانا چاہیے تھا۔

سائرہ بانو نے کہا کہ یہاں پر ایک دوسرے کی برائی کی جارہی ہے ،اپنے پاؤں پر پاؤں آیا تو قانون سازی کا خیال آیا ،کیا عوام کے مسائل کے حل کے لیے بھی کوئی قانون سازی کی گئی ہے ،عدالت کے ججز کے آپس کے اختلافات کا فایدہ نہ اٹھائیں،انھیں اپنا کام کرنے دی، آپ اپنا اصل کام کریں ،آٹے کیلئے قطاروں میں لگے عوام کو ریلیف دیں۔

اجلاس کے دور ان رکن اسمبلی محسن داوڑ کی ترمیم بھی منظورکرلی گئیںجس کے مطابق ماضی میں مقدمات کے فیصلوں کے خلاف ایک ماہ کی اپیل کرسکیں گے ،184 کے تحت ماضی کے فیصلوں کو بھی ایک ماہ کا وقت مل جائیگا۔بعدازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پیش کیا اور ایوان نے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا جبکہ سپریم کورٹ (کارروائی، قواعد و ضوابط) بل بھی منظور کر لیا گیا۔

بل کے مطابق تین رکنی سینئر ججز کی کمیٹی از خودنوٹس کا فیصلہ کریگی،از خود نوٹس کیخلاف اپیل کا حق ہوگا ، 30 دن میں اپیل دائر ہوسکے گی ۔ اجلاس کے دور ان اعظم نذیر تارڑ نے وکلا کی بہبود اور سیکیورٹی کے حوالے سے ‘لائرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن بل پیش کیا جسے ایوان نے منظور کر لیا۔

وزیر تجارت نوید قمر نے امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس کنٹرول ایکٹ 1950 میں ترمیم کا بل پیش کیا جسے منظور کر لیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سینٹ کا اجلاس (آج)جمعرات کو ہوگا جس میں مجوزہ بل منظوری کیلئے پیش کیا جائیگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں