ایرانی وزیر خارجہ

امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک ) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کو جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار د یدیا جبکہ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی منظر نامے کیلئے تیار ہیں، ایران سے دشمنی کی جرات کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔

ایرانی خبر رساں ا دارے ارنا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں ناروے کے نائب وزیر خارجہ اندریاس کراوک سے ملاقات کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی عسکری کارروائی اور اس کے بعد جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق قواعد بنانے کے لیے مشاورت کر رہا ہے۔

ادھر ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر ایک طویل بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بربریت اور تسلط کو مسترد کرتی ہے تو ایران کے حق میں آواز بلند کرے، دنیا عملی اقدام کرے اس سے پہلے کہ جارح قوتیں دنیا کو لاقانونیت اور محکومیت کے گڑھے میں دھکیل دے۔ترجمان نے کہا کہ امریکا اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر جو جنگ مسلط کی یہ محض زمین یا وسائل کی خاطر نہیں، یہ جنگ اس وقت اور آنیوالے دور میں اچھائی، برائی کے معنی متعین کرےگی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران پر سال میں دوسری بارحملہ کرنیوالے ہر جنگی قانون کی خلاف ورزی پر خوشیاں مناتے ہیں، پرامن ایرانی قوم پر حملہ کرنے والے اپنے کھیل کیلئے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، یہ لوگ خواتین کے اسپورٹس ہال پر میزائل برسا کر ان کی تباہ کن طاقت کو جانچ سکیں۔

اسماعیل بقائی نے کہاکہ دوسری جانب وہ ایرانی ہیں جو ہر حد تک جاکر بےگناہوں کی جانوں کو بچاتے ہیں، جنگ پیشہ ور جھوٹوں اور اپنے وطن کا دفاع کرنیوالے فاخر لوگوں کے درمیان ہے، ایسے لمحے میں خاموشی بھی برائی کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتی ہے۔ اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی برکسسمٹ میں شرکت کے لیے بھارت جائیں گے ۔علاوہ ازیں ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی اصولوں کا ذکر کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اِن اصولوں میں جنگ کا مستقل خاتمہ، نقصانات کا ازالہ، ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، پابندیاں ختم کرنا اور ایران کے حقوق کا احترام کرنا شامل ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں غریب آبادی نے لکھا: دھمکیوں اور زبردستی کروائے گئے سمجھوتوں سے حقیقی امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق بحران کے خاتمے کے لیے یہ ایران کے کم سے کم مطالبات ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں