نیویارک (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنگلا دیشی ہم منصب صلاح الدین احمد سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان داخلی سلامتی، پولیس تعاون، سائبر کرائم کے خاتمے اور باہمی تعلقات کے فروغ سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر پولیس افسران کی پیشہ ورانہ تربیت، مشترکہ ٹریننگ پروگرامز اور ایکسچینج پروگرامز شروع کرنے پر بھی گفتگو ہوئی تاکہ دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔دونوں رہنماﺅں نے سائبر کرائم، آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل جرائم سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، مشرق وسطی کی مجموعی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماں نے اس امر پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔بنگلا دیشی وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ محسن نقوی اس دوران متعدد اہم رہنماﺅں اور وزرائے داخلہ سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
ان ملاقاتوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف تعاون، سرحدی سلامتی، انسدادِ منشیات، غیر قانونی انسانی اسمگلنگ، سائبر سیکیورٹی اور پولیس تعاون کو فروغ دینا ہے۔محسن نقوی نے مختلف ممالک کے وزرائے داخلہ اور سیکیورٹی حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ تربیتی پروگراموں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے فورمز پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون، علاقائی امن اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔