لاہور( نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہمار ی لیڈر شپ اور کارکنوں نے رہائی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے ،
کسی رہنما کے گھر والوں کی جانب سے رہائی کی درخواست دائر نہیں کی گئی ، آئین کو بچانے کی آخری امید سپریم کورٹ ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ آئین کے ساتھ کھڑی ہو گی اور کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے دبائو میں نہیں آئے گی ۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جیل بھرو تحریک میں گرفتاریاں دینے والوں نے عوام کے سیاسی سماجی اور معاشی حقوق کے لئے ہتھکڑیوں کیلئے چوماہے، پاکستان کی تاریخ میں اس سے بڑی عدم تشدد کی مہم اور ہو نہیں سکتی ۔ اگرسپریم کورٹ پر دبائو بڑھایا گیا اور بلیک میل کیا گیا ، وکیلوں کے اندر پیسے دے کر توڑ پھوڑ اور علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم ملک گیر تحریک کے لئے بھی تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین نہ بچا تو تو کچھ بھی نہیں بچے گا،یہ واحد ایسا دستور ہے جس پر سب کا اتفاق راہے ، ہم سپریم کورٹ سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ آئین کے ساتھ کھڑی ہو گی اور کسی سیاسی جماعت یا حکومت کا دبائو نہیں لے گی اورغیر جانبدارنہ فیصلے کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے اپنے رہنمائوں اور کارکنوں کی رہائی کے لئے کوئی درخواست دینے کا فیصلہ نہیں کیا ،پارٹی ان کے پیچھے کھڑی ہے ،یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آنے والے دنوں نے پورے پاکستان نے آزاد ہونا ہے یا پورے پاکستان نے جیل بھرو تحریک کے لئے آگے بڑھنا ہے ، انشا اللہ پاکستان دستور کامیاب ہوگا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسد عمر یا شاہ محمود قریشی کے اہل خانہ کی طرف سے رہائی کے لئے کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی ۔ درخواستوں میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ انہیں عدالت کے سامین پیش کیا جائے ، یہ سیاسی قیدی ان کے حقوق دئیے جائیں ، ان سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائیں،جیل مینوئل پر عمل کیا جائے، یہ سیاسی قیادی ہیں لیکن ان کے ساتھ دہشتگردوں کی طرح رویہ رکھا جارہا ہے ، سارا پاکستان ان قیدیوں کے پیچھے کھڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جو مہم چلائی جارہی ہے یہ سپریم کورٹ کو کمزور کررہے ہیں ،اگر ادارے ہوںگے تو پاکستان ہے ،(ن) لیگ کا ہمیشہ یہی مقصد رہا ہے کہ اداروں کو کمزور کیا جائے ۔
انہوںنے کہا کہ آئین کو بچانے کی آخری امید سپریم کورٹ ہے، ادارے مضبوط ہوں گے تو آئین کا تحفظ ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ تحریک انصاف کے 200 سے زائد رہنما اور کارکنان جیلوں میں ہیں ،ہماری تمام لیڈر شپ نے رہائی کی پیشکش کو مسترد کیا ہے ۔اگر عدلیہ کے ججز کو بلیک میل کیا گیا تو ملک گیر تحریک چلائیں گے،چیف جسٹس پاکستان کو کمزور کرنا سپریم کورٹ کو کمزور کرنا ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان بار کونسل کا وفد شہباز شریف سے ملاقات کرتا ہے ،وہ وفد شہباز شریف سے مراعات طے کرتا ہے پھر آکر بنچ پر عدم اعتماد کرتا ہے ۔