پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

حکومتِ پنجاب نے جنگلات کے تحفظ کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا۔ صوبائی اسمبلی میں "فاریسٹ ترمیمی ایکٹ 2025” پیش کر دیا گیا ہے، جس کے تحت درختوں کی کٹائی اور جنگلات کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے سخت سزائیں اور بھاری جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔

ترمیمی بل کے مطابق جنگلات کو نقصان پہنچانے والے افراد کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ پانچ لاکھ سے پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

بل میں "فاریسٹ پروٹیکشن سینٹرز” کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جن کی نگرانی ڈپٹی محافظ کرے گا۔ جنگلات کے افسران کے لیے وردی پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ڈی جی فاریسٹ کے حکم پر چیک پوسٹس بھی قائم کی جا سکیں گی۔

ترمیمی بل کے مطابق افسران کو عدالتی حکم کے بغیر مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ سیکریٹری جنگلات تفتیشی افسران کی تعیناتی کر سکیں گے، جب کہ اگر کوئی فاریسٹ افسر خود جرم میں ملوث پایا گیا تو اسے بھی سزا دی جائے گی۔

مزید برآں، جنگلات کے جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت قائم کی جائے گی۔ جنگلات سے متعلق جرم کی اطلاع دینے والے شہری کو تعریفی سرٹیفکیٹ دیا جائے گا اور اس کی شناخت کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے گا۔

ترمیمات کا بنیادی مقصد جنگلات کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی، اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ بل کو دو ماہ کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، جس کی رپورٹ کے بعد اسے منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔

9 تبصرے ”پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

اپنا تبصرہ لکھیں