باقر قالیباف

ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گا،باقر قالیباف

تہران(انٹرنیشنل نیوز )ایران نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ بمباری سے متاثرہ ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، ملک کی فوجی صلاحیتیں ایک سرخ لکیر ہیں اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جن ایرانی جوہری تنصیبات کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا اور نقصان پہنچا، ان کا معائنہ کرنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں۔ایران کی اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے )کو ایران میں صرف دو مقامات تک رسائی دی گئی ہے، جن میں بوشہر جوہری بجلی گھر بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رسائی صرف اسی حد تک ہے اور ہم اسی کے پابند ہیں۔

دریں اثنا ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک کی فوجی صلاحیتیں ایک سرخ لکیر ہیں اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع ماجد ابن الرضا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں ہماری قومی سلامتی کے لئے سرخ لکیر ہیں۔انہوں نے مزید کہا، یہ صلاحیتیں نہ اب قابلِ مذاکرات ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ہوں گی۔ماجد ابن الرضا کا کہنا تھا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام مزید ترقی کرتے رہیں گے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جنگ کے دوران ایران نے ہزاروں ڈرونز استعمال کیے، جو اس نے خلیجی ہمسایہ ممالک کی جانب داغے۔ یہ بغیر پائلٹ طیارے ایران کے لیے بڑی تعداد میں تیار کرنا نسبتا سستا ہے اور جب انہیں بڑی تعداد میں استعمال کیا جائے تو یہ فضائی دفاعی نظاموں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں