صدر مملکت

صدر مملکت نے جھوٹی معلومات و جدید ٹیکنالوجی بڑے چیلنجز قرار دے دیئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)صدر مملکت آصف علی زرداری نے جھوٹی معلومات اور جدید ٹیکنالوجی کو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے تحفظ، ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور عوامی اعتماد کے فروغ پر زوردیا ہے۔آزادی صحافت کے عالمی دن پر جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر کے صحافیوں، ایڈیٹرز، میڈیا ورکرز اور میڈیا پروفیشنلز کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔

رواں کا موضوع پر امن مستقبل کی تشکیل اس چیز کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچائی کے بغیر امن قائم نہیں کیا جا سکتا اور جدید دنیا میں سچائی کا انحصار ان لوگوں پر ہے جو اسے تلاش کرنے، اس کی تصدیق کرنے اور اسے منظرِ عام پر لانے کی ہمت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج آزادی صحافت کو گوناگوں چیلنجز کا سامنا ہے، غلط و من گھڑت معلومات عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ،جمہوری مکالمے کو مسخ کرتی ہیں، مصنوعی ذہانت جہاں بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے، وہیں پر اس کے نقصانات بھی ہیں، دنیا بھر میں صحافیوں کو ہراساں کیے جانے، قانونی دھمکیوں، معاشی دبا اور بے پناہ خطرات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج عالمی میڈیا کے طاقتور ادارے، بالخصوص سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک اور دیگر تنظیموں کی مدد سے جارحانہ، غیر ملکیوں سے نفرت، نسلی تعصب، پاپولسٹ-فاشسٹ اور "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” جیسے ایجنڈوں کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مالک بڑے تکنیکی ادارے آج قومی ریاستوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنی مداخلت کے ذریعے، کئی بار محنت کش طبقے اور قوموں کے خلاف مصنوعی رضامندی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، آج صحافت کو ریاست سے زیادہ غیر ریاستی عناصر بشمول ان بڑے تکنیکی اداروں اور بڑے کاروباری گروپوں سے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور ریاست، صحافت کی آزادی کے لیے پرعزم ہے جو کہ ایک آئینی ضمانت اور جمہوری ضرورت ہے، آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 قانون کے تحت عائد کردہ معقول پابندیوں کے ساتھ آزادی صحافت کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک آزاد، خود مختار اور متنوع میڈیا کسی پراعتماد قوم کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کی مضبوطی کا ثبوت ہوتا ہے، 18ویں ترمیم کے تحت شامل کیا گیا آرٹیکل 19-اے عوام کے ‘معلومات تک رسائی کے حق’ کو عملی جامہ پہنانے اور اسے یقینی بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جو کہ ایک آزاد صحافت کا مشن بھی ہے۔ احتساب، شفافیت اور آزادانہ تحقیق ایک صحت مند جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ان میں سے ہر ایک کیلئے مضبوط پریس ناگزیر ہے لیکن یہ آزادی اپنے ساتھ ذمہ داری بھی لاتی ہے۔

رفتار کی خاطر درستگی پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور توازن کو جانبداری کی نذر نہیں ہونا چاہیے، عوامی اعتماد، جو کہ آزاد صحافت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، اسے محنت سے حاصل کرنا اور حفاظت کرنا چاہیے اور اسے کبھی بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جہاں پاکستان کو نشانہ بنانے والی جھوٹ پر مبنی منظم مہمات تفرقہ پیدا کرنے اور قومی ہم آہنگی کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ مئی 2025 میں جب ہمارے وطن کے خلاف جارحیت کی گئی تو پوری قوم متحد ہو گئی۔ آپریشن ‘بنیان المرصوص نہ صرف عسکری عزم کا مظاہرہ تھا بلکہ خود مختاری کا اعادہ بھی تھا۔ پاکستان کے میڈیا نے بھی اس موقع پر ملک کے خلاف جھوٹی مہم کے سامنے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

میڈیا نے طاقت سے نہیں بلکہ حقائق سے جواب دیا۔ شور و غل سے نہیں بلکہ وضاحت سے جواب دیا۔ ایک ایسی قوم جو دنیا میں ایک معتبر آواز بننے کی خواہشمند ہو، اسے اپنے ملک کے اندر معلومات کے قابلِ اعتماد ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان صحافیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے سچائی کی تلاش میں، بالخصوص جنگی علاقوں میں، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ میں وفاقی اور صوباء حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ صحافیوں کے لیے سازگار قوانین اور محفوظ ماحول کو یقینی بنائیں۔

میں میڈیا کے اداروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اعلی اخلاقی معیار برقرار رکھیں اور شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جھوٹ کو مسترد کریں اور معتبر صحافت کی حمایت کریں۔مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر معلومات کا ایک ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو ذمہ دار اور سچائی پر مبنی ہو۔ یہ نہ صرف جمہوریت کے لیے بلکہ امن، استحکام اور دنیا میں پاکستان کو اس کا مناسب مقام دلانے کے لیے بھی ضروری ہے۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ لکھیں