لاہور، 18 جولائی(زاہد انجم سے) جنرل ہسپتال کے شعبہ اطفال کے ماہر ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے ایک ماہ کے دوران انتہائی تشویشناک حالت میں لائے گئے 8 نومولود بچوں کو کامیاب علاج فراہم کرتے ہوئے ان کی جانیں بچا لیں۔ جدید طبی سہولیات، بروقت تشخیص، وینٹی لیٹر سپورٹ اور طبی عملے کی شبانہ روز محنت کے باعث یہ شیر خوار بچے مکمل صحت یاب ہو کر اپنے والدین کے ہمراہ گھروں کو واپس چلے گئے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے بتایا کہ نومولود بچوں کو پھیپھڑوں اور دماغ میں آکسیجن کی شدید کمی کے باعث انتہائی نازک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر انہیں فوری طور پر شعبہ اطفال کے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے چوبیس گھنٹے مسلسل نگرانی اور جدید طبی سہولیات کے ذریعے ان کی جانیں بچائیں۔
پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ نجی شعبے میں نومولود بچوں کے آئی سی یو اور وینٹی لیٹر پر علاج کے اخراجات انتہائی زیادہ ہوتے ہیں، جنہیں متوسط اور کم آمدن والے خاندان برداشت نہیں کر سکتے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے “مریض سب سے مقدم” ویژن اور محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی پالیسی کے مطابق جنرل ہسپتال میں شعبہ اطفال کے آئی سی یو میں نومولود بچوں سمیت تمام مریضوں کو بلاامتیاز جدید، معیاری اور مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے شعبہ اطفال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی پیشہ ورانہ مہارت، جذبۂ خدمت اور انتھک کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت تشخیص، جدید طبی آلات اور مربوط ٹیم ورک کی بدولت انتہائی نازک حالت میں لائے گئے نومولود بچوں کو نئی زندگی دینا ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ہسپتال میں بچوں کے علاج اور نگہداشت کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ہر مریض کو بہترین طبی خدمات میسر آ سکیں۔ صحت یاب ہونے والے بچوں کے والدین نے مفت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی پر ڈاکٹروں، نرسنگ سٹاف اور ہسپتال انتظامیہ کے لیے دعاؤں کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔