حافظ نعیم الرحمن

بلوچستان میں سستے پٹرول، گیس کی فراہمی کے لیے ایران سے معاہدہ کیا جائے’ حافظ نعیم الرحمن

لاہور(نیوز ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مشکلات کے باوجود بلوچستان کے نوجوان پرامید رہیں، حالات سے مایوس نہ ہوں، پورے پاکستان کے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں۔ حکمران صوبہ میں سستے پٹرول اور گیس کی فراہمی کے لیے ایران سے معاہدہ کریں، اختیارات پر قابض طبقہ کو جواب دینا پڑے گا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع کیوں دستیاب نہیں اور پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر کیوں ہیں؟ ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لورالائی میں الخدمت فائونڈیشن کے زیراہتمام بنو قابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مفت آئی ٹی تربیت کے مختلف پروگرامات میں داخلہ کے خواہش مند ہزاروں طلبا وطالبات نے امتحان دیا۔ امیرجماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مولانا عبدالحق ہاشمی، نائب امیر صوبہ عبدالمدین اخوندزادہ، نائب امیر صوبہ ڈاکٹر شکیل روشن، عبدالمجید بادینی اور جماعت اسلامی اور الخدمت کے دیگر ذمہ داران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ جب معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور حق تلفی عام ہو جائے تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے اور عوام میں غصہ اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ پاکستان میں حکمرانوں نے تعلیم کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک طرف اشرافیہ کے لیے جدید تعلیمی ادارے ہیں جبکہ دوسری جانب غریب عوام کے بچے بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ آئین پاکستان کے مطابق میٹرک تک مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ آج ملک میں کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں پونے تین کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں جبکہ صرف لورالائی جیسے 2 لاکھ 72 ہزار آبادی والے ضلع میں ایک لاکھ 38 ہزار بچے موجود ہیں جن میں سے 35 ہزار سے زائد اسکول نہیں جاتے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران عوام کو تعلیم دینے کے بجائے انہیں جہالت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستان پر کبھی جاہلوں کی حکومت نہیں رہی بلکہ یہاں وڈیروں، جاگیرداروں اور بیوروکریٹس کی حکمرانی رہی ہے، جنہوں نے عوامی وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ طبقاتی نظام تعلیم دراصل آئین پاکستان اور ریاست کے ساتھ بغاوت کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کا شدید فقدان ہے جبکہ دوسری طرف منشیات کے اڈے کھلے عام چل رہے ہیں، نوجوانوں کی بڑی تعداد نشے کا شکار ہو چکی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس وطن کو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا وہاں ظلم، زیادتی اور ناانصافی اور منشیات عام ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بنوقابل پروگرام نوجوانوں کے لیے ایک”گیم چینجر”ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بنوقابل پروگرام کے ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو مفت تعلیم دی جائے گی اور اگر نوجوان مزید کورسز کرنا چاہیں تو ان کے لیے بھی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل ریپئرنگ، الیکٹریشن، سولر ٹیکنالوجی اور دیگر ہنر سکھانے کے کورسز بھی کرائے جائیں گے تاکہ نوجوان اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں۔حافظ نعیم الرحمن نے بلوچستان کے وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گیس، کوئلہ اور قیمتی پتھر کے بے شمار ذخائر موجود ہیں مگر اس کے باوجود عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایران کے ساتھ گیس اور پٹرول کے معاہدے کیوں نہیں کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ فعال ہو جائے تو صنعت کا پہیہ چلے گا، روزگار پیدا ہوگا اور بلوچستان سمیت پورے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورچوئل پائپ لائن کے ذریعے بھی بلوچستان کے دور دراز علاقوں تک گیس پہنچائی جا سکتی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج موٹرسائیکل چلانے والا غریب آدمی بھاری ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ جاگیردار اور وڈیرے ٹیکس نہیں دیتے۔ حکومت سالانہ دو ہزار ارب روپے آئی پی پیز مافیا کو دیتی ہے مگر بچوں کو تعلیم دینے کے لیے وسائل موجود نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور ظلم و زیادتی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں۔ اب افراد یا چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ پورا نظام بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ نظام عوام کے ساتھ ظلم کر رہا ہے۔

جماعت اسلامی کسی وڈیرے، سردار یا جرنیل کے سہارے نہیں چلتی بلکہ یہ عام لوگوں کی جماعت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعمیری اور مثبت سیاست کو فروغ دیں اور طبقاتی نظام کے خلاف جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بنوقابل پروگرام امیر اور غریب سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کر رہا ہے، ہمیں تقسیم نہیں ہونا، آپس میں لڑنے کے بجائے مل کر حالات بدلنے ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چراغ سے چراغ جلانے کا یہ سفر جاری رہے گا اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ لکھیں