اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو، فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھانے والے عالمی رہنماؤں سے خاصے خفا دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ میں قحط سے مرتے معصوم بچوں پر عالمی سطح پر اُٹھنے والی آوازیں نیتن یاہو کو ایک آنکھ نہ بھائیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیتن یاہو نے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، اور کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ "دہشت گردوں” کے ہمدرد بن چکے ہیں اور انھوں نے اسرائیل کے خلاف ناپسندیدہ مؤقف اختیار کیا ہے۔
ایک ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو نے کہا، "جب قاتل، بچوں کے اغوا کار اور دہشت گرد آپ کا شکریہ ادا کریں تو جان لیجیے کہ آپ انسانیت، انصاف اور سچائی کے مخالف کھڑے ہیں۔”
انہوں نے برطانوی وزیرِ اعظم کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے حامی ہیں، جب کہ فرانسیسی اور کینیڈین قیادت کو بھی نشانہ بنایا۔ نیتن یاہو کے مطابق، ان ممالک کے بیانات نے غزہ میں حماس کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔
یاد رہے کہ ان ممالک نے اسرائیلی فوج کی غزہ میں نئی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور انسانی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔ برطانیہ نے تو اسرائیل کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ بھی روک دیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا تھا کہ اگر امداد نہ پہنچی تو ہزاروں بچے بھوک سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ اس پر نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ پر جھوٹے اعداد و شمار پھیلانے کا الزام لگایا۔
فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امداد کے راستے کھولے۔
دوسری طرف، اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے موجودہ حکومت کو "غنڈوں کا گروہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اس گروہ کا سربراہ ہے، جو ریاست کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو اہلکاروں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ حملہ آور نے نعرہ لگایا، "فلسطین کو آزادی دو!” اور بعد ازاں پولیس کو بتایا کہ اس نے یہ اقدام غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف کیا۔









