(تغیر) تحریر! مبشر نور کمیانہ
۔۔۔
لفظ سامراجیت "امپیریلزم” لاطینی اصطلاح imperium سے آیا بنا ہے جس کا مطلب ہے "حکم دینا”۔ سامراج ایک ملک کی طاقت کو دوسرے علاقوں میں پھیلانے یا دوسرے ملک کی ثقافت ، سیاست یا معاشیات پر کنٹرول حاصل کرنے کی پالیسی یا عمل ہے۔
کسی ایک ملک کا دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے کے عمل کو سامراجیت (imperialism) کہا جاتا ہے۔ یہ دخل اندازی جغرافیائی، سیاسی یا اقتصادی طور پر ہو سکتی ہے۔ کسی ملک یا کسی خطّے کو اپنے سیاسی یا مالیاتی اختیار میں لا کے وہاں کے باشندوں کو مختلف حقوق سے محروم کرنا اِس نظام کی سب سے ظاہری صورت ہے۔
۔۔۔
اِس وقت دنیا جدید ترقی سے لیس ہے۔ ہر ملک تیز تر ترقی کے خزینے طے کر رہا ہے۔ ایسے میں دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک کی بھی بڑی فہرست ہے جو اس وقت دنیا پر غالب ہیں۔ وہ چھوٹے غریب ممالک کو اپنا غلام بنانے میں مگن ہیں۔ دنیا بڑی اقتصادی ترقی والے ممالک اور بڑی معیشت والی دنیا کی سب سے بڑی 2 تنظیمیں جی7 ممالک، جی 20 ممالک ہیں۔ ان بڑے بدمعاش ممالک نے اس دنیا کو یرغمال کیسے بنایا ہوا ہے؟ ۔
۔۔۔
نوآبادیات کے ذریعہ اپنے سامراج کو وسعت دینے والا یہ نظام، نامناسب اقتصادی، تہذیبی اور جغرافیائی مسائل پیدا کرتا ہے۔ قدیم چینی سامراج اور سکندر کے یونانی سامراج سے جدید امریکی سامراجیت تک اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔
انیسویں صدی کے نصفِ اوّل سے بیسویں صدی کے نصفِ اوّل تک کا زمانہ زمانۂ سامراجیت کے نام سے معروف ہے۔ برطانیہ، فرانس، اطالیہ، جاپان، امریکہ وغیرہ جیسے ممالک نے اس زمانے میں عالمی پیمانے پر نوآبادیات قائم کیں۔
اردو کے نظریہ دان، ادبی اور ثقافتی نقاد محقق اور ماہر عمرانیات احمد سہیل لکھتے ہیں "سامراج” کی اصطلاح دوسری جنگ عظیم کے بعد ” نو آبادیات” کے نام سے جانی گئی۔ نوآبادیات ایک ایسا سفاک اور استبدادی رویہ ہوتا ہے جس میں ایک طاقت ور ملک چھوٹے اور کمزور علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرتا ہے اور ان کا سیاسی، معاشرتی، ثقافتی استحصال کیا جاتا ہے۔ اور فوجی قوت اور سازشوں سے مقامی اداروں اور ثقافت کو تباہ وبرباد کرتے ہیں۔ یہ مقامی زیر تسلط خطے کو ” سونے کی چڑیا” تصور کرتے ہیں۔ ایک ملک کی سرحدوں سے باہر جا کے دوسرے ملک کے اختیارات پر دخل اندازی کرنے کے عمل کو سامراجیت کہتا ہے۔
یہ دخل اندازی جغرافیائی ، سیاسی یا اقتصادی طور پر ہو سکتی ہے ۔ کسی ملک یا کسی خطے کو اپنے سیاسی اختیار میں لا کر وہاں کے باشندوں کو مختلف حقوق سے محروم کرنا اِس نظام کا سب سے ظاہری صورت ہے ۔ نوآبادیات کے ذریعہ اپنے سامراج کو وسعت دینے والا یہ نظام ، نامناسب اقتصادی ، تہذیبی اور جغرافیائی مسائل پیدا کرتا ہے۔”
سامراج کو تصفیہ، خودمختاری، یا کنٹرول کے کچھ بالواسطہ میکانزم کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے دور رس اثرات ہیں اور یہ معیشتوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور جنگ کے معاملات کو متاثر کر سکتا ہے۔”
۔۔۔
ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے کرپٹ ترین حکمرانوں کی نا اہلیوں، منافقت اور دوغلے پن کی وجہ سے سامراجی قوتیں ہمارے پاک وطن پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں؟ اور اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہو چکی ہیں موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تحریر میں اس کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے غور سے پڑھ کر سمجھنے کی کوشش ضرور کریں آپ کے متفق یا غیر متفق ہونے کا فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے۔
۔۔۔
ایک ملک کی سرحدوں سے باہر جا کے دوسرے ملک کے اختیارات پر دخل اندازی کرنے کے عمل کو سامراجیت کہا جاتا ہے۔ یہ دخل اندازی جغرافیائی، سیاسی یا اقتصادی طور پر ہو سکتی ہے۔ کسی ملک یا کسی خطّے کو اپنے سیاسی یا مالیاتی اختیار میں لا کے وہاں کے باشندوں کو مختلف حقوق سے محروم کرنا اِس نظام کی سب سے ظاہری صورت ہے۔نوآبادیات کے ذریعہ اپنے سامراج کو وسعت دینے والا یہ نظام، نامناسب اقتصادی، تہذیبی اور جغرافیائی مسائل پیدا کرتا ہے۔
۔۔۔
قدیم چینی سامراج اور سکندر کے یونانی سامراج سے جدید امریکی سامراجیت تک اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ انیسویں صدی کے نصفِ اوّل سے بیسویں صدی کے نصفِ اوّل تک کا زمانہ سامراجیت کے نام سے معروف ہے۔ برطانیہ، فرانس، اطالیہ، جاپان، امریکہ وغیرہ جیسے ممالک نے اس زمانے میں عالمی پیمانے پر نوآبادیات قائم کیں۔
مثال کے طور پر آئی ایم ایف جو کڑی شرائط عائد کر کے مقروض ممالک پر جو عنائیات کر رہا ہے اور ہر قسط سے پہلے اپنی من مرضی کی شرائط منوا کر ملکی وسائل سمیت ملکی اداروں کی سیکریسی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہا ہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکا ہے یہ ادارہ کہیں ان سامراجی سوچ رکھنے والی قوتوں کے ڈبل ایجنٹ یا آلہ کار کے طور پر تو کام نہیں کر رہا ؟
جو قوتیں کرپٹ حکمرانوں کو سہولیات فراہم کر کے لئے گئے قرضوں سے سود سمیت بلکہ کئی گنا زیادہ رقم اپنے ممالک میں منتقل کروا رہے ہیں اور ملکی اثاثے گروی رکھوا کر اللہ کریم کے عطا کردہ قدرتی وسائل جو ہم اپنے کرپٹ اور منافق حکمرانوں کی وجہ سے استعمال میں لانے کیلئے کامیاب نہیں ہو سکے ان پر قبضہ تو نہیں کرنا چاہتے بادی النظر میں تو یہی کچھ نظر آ رہا ہے۔
۔۔۔
قرضوں کے زریعہ بھی غریب ممالک کو اپنا غلام بنایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ بھی کافی خفیہ چالیں ہیں جن میں ایک (رجیم چینج) کی آپشن ھی ہے۔ اب پاکستان کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ 9 اپریل 2022 رات 12 بجے جو رجیم چینج کی گئی۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے ایک سازش کے تحت پاکستان کی ایک بہترین چلتی حکومت (عمران خان) کو گرا دیا گیا۔ یہ کام کیسے ہوا؟ سامراجی طاقتوں نے پاکستان میں صرف ایک طاقتور بندے کے زریعے اپنا کام کروا لیا اور اپنی مرضی کے کرپٹ افراد کو سسٹم پر بٹھا کر پاکستان کا ستیاناس پھیر دیا ۔ یہ ہیں سامراجی طاقتیں جو بغیر جنگ لڑے اپنے دشمن ملک کو زیر کر لیتے ہیں۔
۔۔۔
کسی بھی ملک کو اپنا غلام بنانا ہو سامراجی قوتوں کے لیے بہت آسان عمل ہے۔ اس کے لیے وہ صرف وہاں سے کرپٹ حکمرانوں کو چُنتے ہیں انکو مختلف طرح کے لالچ پیسہ نوجوان لڑکیاں بنگلے جزیرے عنایت کر کے بعد میں انکی خفیہ ویڈیو کے زریعہ انکو بلیک میل کرتے ہیں اور اپنے مطلوبہ اہداف پورے کروا لیتے ہیں۔ اس طرح غریب ممالک کا نظام تباہ ہو کر سامراجی قوتوں کے نرغے میں چلا جاتا ہے اور وہاں کی ساری دولت پیسہ معدنی زخائر قدرتی وسائل سب کچھ غریب ممالک کے ہاتھ سے نکل کر سامراجی قوتوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ اس طرح ملک ترقی پذیر رہ کر پسماندہ ملک بن جاتے ہیں اور عوام بیچاری محکوم و مظلوم بن کر رہ جاتی ہے۔
۔۔۔
"سامراج کیا ہے؟” دور بیٹھ کر کسی ملک کے سیاسی اور معاشی نظام کو اپنی لپیٹ میں لینا ہے، بیرونی عناصر کا آپ پر قبضہ کرنا ہے، دنیا کی ایسی طاقت ہے جس کا مقصد پیسہ کمانے کی اپنی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ یہ نظام آپ کو کبھی بھی اپنے فیصلے خود کرنے نہیں دیتا، آپ کی مرضی اور رائے نہیں پوچھتا۔ چونکہ موجودہ دور میں کسی ملک میں داخل ہو کر ان پر قبضہ برقرار رکھنا ناممکن ہے، اس لئے سامراجیت نے جنم لیا تاکہ آپ کی نظروں سے اجھل ہو کر آپ پر وار کرنا آسان رہے۔
۔۔۔
سولہویں صدی کے بعد یورپ نے دنیا میں نوآبادیات کا آغاز کیا تو اس کے ساتھ ہی یورپ اور باقی دنیا میں صنعتی انقلاب آیا، جس کے کندھے پر بندوق رکھ کر سرمایہ دارانہ نظام نے جاگیردارانہ نظام کو ٹکر دی اور اپنے قدم جما لئیے، بڑے بڑے کارخانے بن گئے اور ان کو چلانے کیلئے خام مال کی اشد ضرورت پیش آئی۔ اس خام مال کو حاصل کرنے کیلئے یورپ کی انگریز قوم نے دوسرے ممالک پر قبضے کرنا شروع کر دئیے اور جگہ جگہ اپنے حکومتی تحت نصب کر لئیے۔
۔۔۔
اس دور میں اس نظام کے خلاف دنیا کی جن اقوام نے بھی سر اٹھائے تو انہوں نے وہ سر کاٹ ڈالے۔ انہوں نے اپنے مخالف ممالک کی معیشت کو کمزور کرکے ان کو قرضے دے ڈالے اور اس طرح ان کو اپنے غلام بنا کر ان کے منہ بند کرا دئیے۔ سامراجی طاقتیں پہلے ملکوں کو قرضہ دیتے ہیں، پھر ان کو اسلحہ بیچتے ہیں (اور بڑی مہارت سے اپنا قرضہ وصول کر لیتے ہیں) تاکہ یہ ایک دوسرے پر حملہ کر سکیں، پھر جب جنگ میں خونریزی ہوتی ہے تو یہ آکر انہی ممالک میں اپنی دوائیاں بیچتے ہیں اور تباہ حال شہروں کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے پھر سے قرضہ دے دیتے ہیں۔ اس طرح یہ اپنے مقاصد حاصل کرتے رہتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ سامراجی طاقتیں اپنی جڑیں مضبوط کرتی اور پھیلاتی گئیں اور دنیا میں ان کا ایک نام بنتا گیا۔ جدیدیت کے نام پر انہوں نے مختلف اقوام سے ان کا کلچر اور ان کی روایات چھین لئیے۔ ان کے ہاتھ میں اپنا جھنڈا پکڑا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ کچھ احمق لوگوں نے اس جدیدیت کا لباس پہن کر اپنے مذہب، کلچر اور روایات کی قربانی دے دی اور وہ اپنی پہچان بھول گئے۔
سامراجی طاقتوں نے ان اقوام کی پرانی تاریخ کو اپنے قلم سے دوبارہ لکھ کر ان کو پڑھایا اور وہ خود سے اور اپنی قوم سے نفرت کرنے لگ گئے، انگریزوں کو اپنا آقا ماننے لگ گئے اور اب تک مانتے آ رہے ہیں۔
۔۔۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان سامراجی طاقتوں کا کھیل، جو یہ کھیل رہے ہیں، سمجھ کر ان کو ہرا دیں۔اپنی کھوئی ہوئی پہچان دوبارہ حاصل کریں، اپنی روایات کو دوبارہ اپنائیں اور ان کو اپنی طاقت اور مضبوطی بنا کر اس ظالمانہ نظام کو شکست دیں تاکہ اس ظالم سامراج کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
References:
Kensington security slot
References:
https://graph.org/Best-Online-Casino-Australia-Real-Money-04-20
References:
Rocketplay casino rocket wagering requirements terms and conditions
References:
Online casino mobile
References:
https://singapur-casinos.online-spielhallen.de/
References:
Casino hobart
References:
https://krypto-casino-bonus.online-spielhallen.de/
References:
Mönchengladbach
References:
https://die-spielbank-casino.online-spielhallen.de/
References:
Trier
References:
https://casinova-casino-erfahrungen.online-spielhallen.de/
References:
Aspers casino stratford
References:
https://graph.org/Roulette-Tips-For-Beginners-04-27
References:
Casino o n net
References:
https://graph.org/What-Do-Gamblers-Call-Their-Money-04-27