کوالالمپور(انٹرنیشنل نیوز)ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہزاروں مظاہرین ایک بڑی ریلی کی صورت میں جمع ہو گئے۔
جب سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے ملائیشیا میں اس کے خلاف احتجاج جاری ہے مگر فلسطینیوں کے حق میں ملائیشین عوام کا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مظاہرین روایتی فلسطینی سکارف اور رومال اوڑھے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین فلسطین کو بچاو ، فلسطینیوں کی نسل کشی بند کروکے علاوہ دریا سے سمندر تک فلسطین آزاد ہو گاکے نعرے لگا رہے تھے۔
اظہار یکجہتی کے لیے اس بڑی ریلی کو ‘ ملائیشیا فلسطین کے ساتھ ہے کا نام دیا گیا تھا۔ اس ریلی کا انعقاد دارالحکومت کے جنوب میں ایگزیاٹا ارینا سٹیڈیم ‘ میں کیا گیا ۔ جہاں 16000 نشستوں کا اہتمام تھا۔ پنڈال ہر طرف سے بھرا ہوا تھا، جب وزیر اعظم انور ابراہیم نے ریلی کے شرکا سے خطاب کیا۔وزیر اعظم انور ابراہیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملائیشیا کے لوگ کل بھی فلسطینیوں کے ساتھ تھے، آج بھی ساتھ ہیں اور آنے والے کل کو بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہوں گے۔ ملائیشیا کے لوگ اس وقت بھی فلسطینیوں کے ساتھ تھے جب یاسر عرفات ایک آزاد فلسطین کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اور آج بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔
ہم کسی خوف کے بغیر فلسطینیوں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔وزیر اعظم ملائیشیا نے کہاکہ یہ ظلم کی انتہا ہے لوگوں کے قتل عام کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ بچے مر رہے ہیں۔ ہسپتالوں پر بمباری ہو رہی ہے، سکول تباہ کیے جارہے ہیں۔ ہم اس کے علاوہ کچھ مطالبہ نہیں کرتے کہ فلسطین کے عربوں کو انسان سمجھا جائے ۔ ان کیساتھ انسانوں والا سلوک کیا جائے۔ قتل عام روکا جائے۔ انہیں کھانا دیا جائے۔ ادویات دی جائیں۔ فلسطینی بچوں کو جینے کا حق دیا جائے۔ کیا یہ مطالبہ زیادہ ہے ؟ ‘وزیر اعظم نے زور دے کر کہا ۔