کراچی(کامرس ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان کو قطر انرجی سے ایک اور طویل مدتی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگو موصول ہو گیا ہے، جس سے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ذرائع کے مطابق قطر انرجی کا ایل این جی بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے کے بعد 31 جولائی کو پاکستانی پانیوں میں داخل ہو گیا، جسے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے توانائی تحفظ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔یہ کارگو پاکستان اور قطر کے درمیان حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) طویل مدتی معاہدے کے تحت فراہم کیا گیا ہے۔
معاہدے کے مطابق اس کارگو کی قیمت برینٹ کروڈ کے 13.37 فیصد کے مساوی مقرر کی گئی ہے، جو عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں دستیاب ایل این جی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔توانائی شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق اس وقت عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت 22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اگر پاکستان فوری بنیادوں پر اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کرتا تو قیمت 23.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔
ماہرین کے مطابق طویل مدتی معاہدوں کے تحت کم قیمت پر ایل این جی کی فراہمی نہ صرف ملک پر اضافی مالی بوجھ کم کرنے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ بجلی کی پیداوار اور گیس کی فراہمی کے نظام کو بھی استحکام فراہم کرے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے۔
٭٭٭٭٭